حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ از قلم مولانا محمد صابر نورانی خلفاء راشدین حضرت ابو بکر صدیق ،حضرت عمر فاروق،حضرت عثمان اور حضرت علی المرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد جس مسلمان فرماں روا کا نام تاریخ کے افق پر آفتاب کی طرح روشن اور تابناک ہے وہ ابو حفص عمر بن عبد العزیز ہیں جو بنو امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے ۔جس زمانے وہ سریر آرائے خلافت ہوئے اسلامی سلطنت بے انتہاوسعت اختیار کر چکی تھی،لیکن اس کے ساتھ ہی نظام حکومت میں کئی خرابیاں پیدا ہوچکی تھی۔اور خلفاء راشدین کا عہدِ زریں قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔عمر بن عبدالعزیز نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں ان خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور مجددانہ کارناموں سے جسدِ ملّت میں اسلام کی حقیقی روح پھونک کر ایک بار پھر خلفاء راشدین کابا برکت دور واپس لے آئے۔اسی لئے علماء فقہ و تاریخ نے آپ کو پہلی صدی ہجری کا مجدد اور ارباب سیر نے خلیفہ راشد ٹھہرایا،جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا کہ خلفاء راشدین پانچ ہیں حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور حضرت علی المرتضیٰ اورحضرت عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ آپ61 یا 62ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے،آپ کی والدہ ام عاصم بنتِ عاصم بن حضرت عمر فاروق تھیں۔جو کہ حضرت عمر فاروق کی پوتی تھی۔بچپن میں آپ کو گھوڑے نے لات ماری تھی جس سے چوٹ کا نشان پڑگیا تھا۔تاریخ ترمذی میں ہے کہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ میری اولاد میں ایک ایسا آدمی ہوگا، جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ عدل و انصاف کو دنیا میں پھیلادے گا۔چنانچہ آپ کے فرمان کے بموجب عمر بن عبد العزیز نے روئے زمین پر عدل و انصاف کا بول بالا کردیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں ہوئی جبکہ مشہور بزرگ حضرت صالح بن کیسان آپ کے اتالیق تھے جنہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی، حضرت صالح نے جس دلسوزی سے عمر بن عبدالعزیز کے کردار و سیرت کی تعمیر کی اس کا اندازہ ا س واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے نماز میں دیر کردی۔ حضرت صالح بن کیسان نے وجہ پوچھی تو کہا کہ بال سنوارنے میں دیر ہوگئی تھی۔ حضرت صالح سخت ناراض ہوئے اور فرمایا!اللہ اللہ بالوں کے سنوار نے کو نماز پر مقدّم سمجھتے ہو؟اور ایک خط لکھ کر آپ کے والدعبد العزیز کو اپنے صاحبزادے کی اس حرکت کی اطلاع دی ،انہوں نے فورًا ایک آدمی مصر سے روانہ کیا جس نے مدینہ منورہ آکر عبد العزیز کی ہدایت پرپہلے ان کے بال مونڈھے اس کے بعد کسی سے بات چیت کی۔ غرض اس قدر سخت اور کٹھن پابندیوں کے ماحول میں تعلیم و تربیت پاکر آپ چند سال کے اندر اندر ایک متبحر عالم بن گئے کہ آپ نے زمانۂ طا لب علمی میں حضرت انس بن مالک،حضرت سائب بن زید،حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اکابرینِ امت سے استفادہ کیا۔ اسی دوران آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور تفسیر ،حدیث،فقہ، عربی ادب اور شعر و شاعری میں وہ کمال حاصل کیاکہ آپ کے زمانے میں مدینہ منورہ میں کوئی آپ کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ علامہ ذھبی آپ کے علم و فضل کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ وہ بڑے امام ،بڑے فقیہہ،مجتہد، حدیث کے بڑے ماہر، معتبر حافظ اور سند تھے۔جبکہ امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ میں تابعین میں سے سوائے عمر بن العزیز کے کسی کے قول کو حجت نہیں سمجھتا۔ تحصیل علم سے فراغت کے بعد عمربن عبدالعزیز اپنے والد کے پاس مصر آگئے جہاں آپ کے والد گورنر تھے چونکہ آپ شاہی خاندان کے رکن اور مصر کے حاکم اعلیٰ کے فرزند تھے اس لئے عنفوان و شباب میں بڑے نفاست پسند اور شاہ خرچ ہوگئے اعلیٰ اعلیٰ سے لباس پہنتے اچھی سے اچھی غذائیں کھاتے اور نہایت جاہ وحشم سے رہتے تھے۔86 ہجری میں آپ کے والد عبد العزیز بن مروان کا انتقال ہواتو آپ کے چچا خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان نے آپ کو اپنے پاس دمشق بلالیا اور اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی آپ سے کرادی۔ 87ہجری میں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا تو آپ نے اس شرط کے ساتھ منظور کیا کہ مجھے پہلے حکام کی طرح ظلم و ستم پر مجبور نہ کیا جائے گا۔آپ نے 87سے 93 ہجری تک نہایت عدل و انصاف سے مدینہ منورہ کی گورنری کی اس دوران آپ نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی از سر نو تعمیر کی نیز جن مساجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی ان کو منقّش پتھروں سے تعمیر کرایااور دیگر اہم رفاہ عامّہ کے کام کرائے۔ 96 ہجری میں ولید بن عبدالملک کی وفات کے بعد اس کا بھائی سلیمان تخت نشین ہوا تو اس نے آپ کو اپنا مشیر خاص مقرر کیا اور جب 99 ہجری کو اس کا انتقال ہونے لگا تو اس نے مشہو ر تابعی حضرت رجاء بن حیوٰۃ کے مشورہ پر آپ کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی آپ کی زندگی میں یکسر انقلاب آگیااور وہ عمر جو کہ اس سے پہلے سب سے بڑھ کر خوش لباس،معطر اور جاہ و حشم والے تھے۔اب فاروق ثانی بن گئے،سلیما ن کی تجہیز و تکفین سے فراغت کے بعد آپ نے تمام شاہی سواریاں واپس کردیں اور اپنے خچر پر سوار ہوکر گھر کی طرف روانہ ہوئے اور جب سیکورٹی افسر نیزہ لے کر آگے چلنے لگا تو اس کو ہٹادیااور فرمایاکہ میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں،گھر پہنچے تو لونڈی نے آپ کے چہرے کو متغیر دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں پریشان ہیں تو فرمایا کہ آج دنیا میں کوئی مسلما ن ایسا نہیں جس کا مجھ پر حق نہ ہواور بغیر مطالبے کے اس کا حق پورا کرنا مجھ پر فرض نہ ہو۔اس سے بڑھ کر پریشانی اور فکر کی کون سی بات ہوسکتی ہیں؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بارخلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے وہ تمام اموال اور جاگیریں ان کے اصل مالکوں اور حقداروں کو واپس کرنے کا ارادہ کیا جن پر حکمران طبقہ نے ایک عرصے سے ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا۔ یہ کام اس قدر دشوار تھاکہ سارے خاندان کے برہم ہوجانے کا خطرہ تھالیکن آپ نے اس کی مطلق پروانہ کی ،بعض نے کہا کہ اس طرح آپ کی اولاد مفلس ہوجائے گی ۔آپ نے فرمایا کہ میں ان کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں پھر مسجد تشریف لے گئے اور فرمایا لوگو!خلفاء بنو امیّہ نے ہم کو عطایا اور جاگیریں دیں میں سب اصل حقداروں کو واپس کرتا ہوں اور اپنی ذات و خاندان سے اس کا آغاز کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنی اور اپنے خاندان کی جاگیر کی تمام اسناد منگائیں اور اپنے غلام کو حکم دیا کہ سب کو ان کی عبارت پڑھ کر سناتے جاؤ وہ سناتے جاتے اور آپ قینچی سے کاٹتے جاتے یہاں تک کے صبح سے دوپہر تک یہ سلسلہ جاری رہا اور آپ نے اپنی اور اپنے خاندان کی تمام جاگیریں واپس کرادیں۔اسی طرح آپ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ وہ قیمتی نگینہ جو کہ تمہیں تمہارے والد عبد الملک بن مروان کی طرف سے ملا ہے اس کو بیت المال میں جمع کردویا مجھے چھوڑنے کو تیار ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے وہ بیش قیمت ہیرا بلا چوں و چرا بیت المال میں جمع کرادیا۔ اس کے بعد آپ دیگر غضب شدہ مال کی طرف متوجّہ ہوئے اور جو بھی جائیداد و مال ظالمانہ طریقہ سے غضب کیا گیا تھاایک ایک کرکے ان کے اصل مالکوں کو واپس کرایا چنانچہ جب اموال مغضوبہ کی واپسی شروع کی تو ایک ذمی(غیر مسلم) نے اٹھ کر کہا: اے امیر المومنین!شہزادۂ عباس بن ولید نے میری زمین پر غاضبانہ قبضہ کر رکھا ہے،عباس وہیں موجود تھا۔اس نے کہا کہ یہ زمین میرے والد (ولیدبن عبدالملک) نے دی تھی اور میرے پاس اس کی سند موجود ہے۔یہ سن کر مدعی نے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کتاب اللہ کے مطابق جو فیصلہ کریں مجھے منظور ہوگاتو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب ولید کی سند پر مقدّم ہے۔عباس تم اس کی زمین چھوڑ دو۔ آپ نے تمام علاقوں میں وہاں کے گورنر کے پاس تاکیدی احکام بھیجے کہ غضب شدہ مال و املاک کو ان کے اصل مالک کو واپس کردیں چنانچہ عراق میں اس قدر مال واپس کیا گیا کہ وہاں خزانہ خالی ہوگیا ۔اور صوبہ کی حکومت کے اخراجات کے لئے دارالخلافہ سے روپیہ بھیجنا پڑا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ان فقیدالمثال عادلانہ اقدامات سے بنو امیہ میں سخت برہمی پیدا ہوئی اور انہوں نے مختلف لوگوں کو آ پ کے پاس بطو ر سفارشی بھیجا مگر آپ نے انہیں واپس کر دیا۔اسی دوران شہزادہ عمر بن ولید بن عبد الملک نے آپ کو ایک سخت خط لکھا جس میں آپ پر الزام عائد کیا کہ آپ نے اپنے خاندان (بنو امیہ) کو ظلم و ستم کے لئے مخصوص کر لیا ہے۔تو آپ نے بھی اس خط کا جواب بہت سخت الفاظ میں دیااور آخر میں لکھا کہ اگر مجھے فرصت ہوتی تو میں تجھے اور تیرے خاندان کو روشن راستے کی طرف لاتا۔ہم نے مدتوں سے حق کو چھوڑ دیا ہے۔اگر تم فروخت کئے جاؤاور تمہاری قیمت یتیموں ،مسکینوں اور بیواؤں پر تقسیم کی جائے تو وہ کافی نہ ہوگی کیونکہ تم میں سب کا حق ہے۔ عدل و انصاف کا قیام کسی بھی حکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔اور یہ فریضہ حضرت عمربن عبد العزیز نے اس شان سے انجام دیا کہ عدل و انصاف کے حوالے سے آپ کا نام ضرب المثل بن گیا۔آپ نے تمام مغضوبہ اموال و جائیداد ان کے اصل حقداروں کو واپس کرائیں،شاہی خاندان کے ارکان کے غرور و نخوت کو توڑااور انہیں عام رعایا کی سطح پر لے آئے،تمام حکام و عمال کو ان کے فرائض منصبی کی تشریح کے سلسلے میں احکام جاری کیے جن میں انہیں ہر کام میں خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی خوشنودی کو مدّنظر رکھنے کی ہدایت کی، ظالم اور سفّاک حکام کو معزول کردیا،وہ تمام وظائف و انعامات جو خلیفہ کے اقربااور منظور نظرلوگوں کو دیے جاتے تھے موقوف کردیے، کسی سے بغیر اجرت بیگا رلے لینا حکماًبند کر دیاگیا،گمان اور شبہ کی بنیادپر سزا دینے اور عورتوں کو مردوں کے بدلے گرفتار کرنے کی سختی سے ممانعت کردی گئی، نو مسلموں سے جزیہ لینا بند کردیا گیا،عدالت میں کسی سے امتیازی سلوک کرنے ممانعت کردی گئی اور عدل و انصاف کے معاملے میں تمام لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملّت برابر قرار دے دیا ۔حتیٰ کہ ایک بار شہزادہ مسلمہ بن عبد الملک جو خاندانِ بنو امیہ کا دست و بازو تھا،اس نے ایک گرجا گھر کے منتظمین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ۔ عیسائی فریق عدالت میں کھڑے ہو کر اپنا موقّف بیان کررہا تھا جب کہ مسلمہ خاندانی زعم کی بنا پر بیٹھا ہوا تھا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ تمہارا فریق مخالف کھڑے ہوکر گفتگو کررہا ہے،اس لئے تمہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تم بھی کھڑے ہوجاؤ،پھر فریقین کے بیانات سن کر فیصلہ مسلمہ کے خلا ف اور عیسائیوں کے حق میں کر دیا۔ اقامت عدل کے ساتھ ساتھ حضرت عمر بن عبد العزیز نے شریعت کے احیاء ،بدعات کے استیصال اور فواحش و منکرات کے انسداد پر بھی خصوصی توجہ دی،آپ حکام کو احیاء شریعت اور استیصال بدعت کی سختی سے تاکید کرتے تھے آپ نے عقائدو اخلاق وغیرہ میں جو رخنے پیدا ہورہے تھے انہیں پوری شدّت کے ساتھ روکا۔ حضرت عمر بن عبد العزیزلوگوں کودینی امور میں موشگافیاں کرنے سے روکتے تھے اور فرماتے کہ مکتب کے بچوں اور صحرا کے بدؤں کا دین اختیار کرواور اس کے سوا ہر چیز بھول جاؤ۔ دقیق مسائل میں الجھنااور ایک دوسرے سے تکرار کرنا آپ کو سخت ناپسند تھافرماتے کہ جب کسی قوم کو دیکھو کہ و ہ عوام الناس کے سامنے اس قسم کے مسائل پر بات کرتی ہے توسمجھ لو کہ وہ گمراہی کی بنیاد ڈالتی ہیں۔آپ کو جب معلوم ہوا کہ لوگ نماز کے وقت کی پابندی نہیں کرتے تو انہوں نے تمام عمال کے نام ایک فرمان بھیجا کہ نماز کے وقت تمام کا م چھوڑدوکیونکہ جس نے نماز کو ضائع کیا وہ دوسرے فرائض کوسب سے زیادہ ضائع کرنے والاہوگا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ان مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ احکام شریعت پر سختی سے پابندی کرنے لگے اور اختلافی مسائل میں ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے دینی امور کی تفصیلات میں پیارومحبت سے ایک دوسرے سے گفتگو کرنے لگے۔ فتوحات اسلام کی بدولت اہل عجم کے اثر سے مسلمانوں میں یہ رواج ہوگیا تھا کہ عورتیں اور مرد حماموں میں بے باکانہ غسل کرتے تھے،آپ نے عورتوں کو حمام میں جانے سے بالکل روک دیااور مردوں کو حکم دیا کہ وہ بغیر تہہ بند کے حمام میں غسل نہ کریں۔ آپ نے بارخلافت سنبھالنے کے بعد محسوس کیا کہ بیت المال کی آمدنی و اخراجات میں شدید بدعنوانیاں پائی جاتی ہیں اور جائز و ناجائز ہر قسم کی آمدنی بیت المال میں جمع کرلی جاتی ہے اور پھر اسی طرح بے جا خرچ کردی جاتی ہے۔ آپ نے دونوں طرح کی بدعنوانیوں کا تدارک کیا، آپ نے شاہی خاندان کے تمام مخصوص وظائف بند کردیئے، اپنا تمام ذاتی سامان امارت، لونڈی وغلام ، فرش و فراش، لباس و عطریات وغیرہ فروخت کرکے ان کی قیمت بیت المال میں داخل کرادی، بیت المال کی آمدنی بڑھانے کے لئے حجاج بن یوسف نو مسلموں سے بھی جزیہ لیتا تھا آپ نے حکم جاری کیا کہ جو لوگ مسلمان ہوجائیں ان کا جزیہ فی الفور ساقط کردیا جائے۔ اس کے بعد آپ کو اطلاع ملی کہ جراح بن عبداللہ والی خراسان نو مسلموں سے یہ کہہ کر جزیہ لیتا ہے کہ یہ لوگ جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کے لئے اسلام لائے ہیں تو آپ نے اسے لکھا کہ’’رسول اللہ کو دین مبین کا داعی بنا کر بھیجا گیا تھا ٹیکس وصول کرنے والا نہیں جو شخص نماز ادا کرے تمہیں اس سے جزیہ وصول کرنے کا کوئی حق نہیں‘‘ جب اس پر عمل درآمد ہوا تو لوگ گروہ در گروہ مسلمان ہونے لگے یہ دیکھ کر جراح نے آپ کو یہ تجویز لکھ بھیجی کہ ان کا ختنہ کراکے ان کے اخلاص کا امتحان لینا چاہیے تو آپ نے لکھا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو داعی اسلام بنا کر بھیجا ختنہ کرنے والا نہیں‘‘ اور اسے اس کے عہدے سے معزول کردیا۔ آپ کے اس عمل سے اس قدر لوگ مسلمان ہوئے کہ بیت المال کی آمدنی گھٹ گئی اور اخراجات کے لئے قرض لینا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے بیت المال کی حفاظت کا کڑا انتظام کیا چنانچہ ایک بار یمن کے بیت المال سے ایک اشرفی گم ہوگئی تو آپ نے وہاں کے افسر خزانہ کو لکھا کہ میں تمہاری امانت داری پر شک نہیں کرتا لیکن تمہیں لاپرواہی کا مجرم قرار دیتا ہوں اور میں مسلمانوں کی طرف سے ان کے مال کا مدعی ہوں لہٰذا تم پر فرض ہے کہ تم اپنی صفائی میں شرعی قسم اٹھاؤ۔ اسی طرح یزید بن مھلب والی خراسان کو خیانت کے جرم میں معزول کر کے قید کردیا، آپ نے تمام حکام کو ہدایت جاری کی کہ کاغذ پر موٹے قلم اور بڑے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں بلکہ چھوٹے الفاظ تحریر کریں تاکہ کاغذو سیاہی کی بچت ہوغرض آپ نے اپنے اصلاحیاقدامات سے بیت المال کو خلفاء راشدین کے بعد دوبارہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ امانت بنادیا اور اس کا تمام روپیہ ان کی ضروریات کے لئے وقف کردیا۔ تمام اہل سیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام ناجائز آمدنیوں کے سدباب ہونے کے باوجود حضرت عمر کے عہد بابرکت میں رعایا اس قدر خوشحال ہوگئی کہ ملک کے طول و عرض میں افلاس و غربت کا نام و نشان مٹ گیا یہاں تک کہ صدقہ لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔ چنانچہ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے صدقہ کی وصولی اورتقسیم کے لئے افریقہ بھیجا میں نے صدقہ وصول کیا اور فقراء کو بلوایا کہ ان میں تقسیم کروں لیکن کوئی شخص صدقہ لینے نہ آیا کیونکہ عمر بن عبدالعزیز نے لوگوں کو غنی کردیا تھا اس لئے میں نے صدقہ کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کردیئے۔ آپ نے حدود سلطنت میں توسیع کرنے کی بجائے اسلام کی توسیع و اشاعت کو اپنا مقصد قرار دیا اور اس کے لیے اخلاقی یا مادی ذریعہ جو بھی ممکن تھا اختیار کیا۔ چنانچہ والی خراسان کے ہاتھ پر چار ہزار ذمی مسلمان ہوگئے جب اس نے یہ آپ کو لکھا تو آپ نے جواب میں لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ سب ذمی مسلمان ہوجائیں اور ہماری حیثیت محض کا شتکار کی رہ جائے کہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائیں۔ آپ نے جس انہماک سے حکومت کے مختلف شعبوں میں دوررس اصلاحات نافذ کیں اسی تندہی سے دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت اور ارشادوہدایت پر بھی خاص توجہ دی چنانچہ آپ نے ایک عامل کو لکھا کہ لوگوں کے چاہیئے کہ سرگرمی سے علم کی اشاعت کریں، تعلیم کے لئے حلقہ درس میں بیٹھیں تاکہ جو لوگ نہیں جانتے وہ جان لیں کیونکہ علم اس وقت تک برباد نہیں ہوتا جب تک اسے مخفی نہ رکھا جائے اور اہل علم کو حکم دو کہ اپنی مسجدوں میں علم کی اشاعت کریں کیونکہ حدیثیں مردہ ہورہی ہیں۔ آپ نے مدینہ منورہ کے گورنر قاضی ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ احادیث نبویہ کی تلاش کر کے انہیں لکھ لو کیونکہ مجھے علم کے مٹنے اور علماء کے فنا ہونے کا خوف معلوم ہوتا ہے اور صرف رسول اللہ کی احادیث قبول کی جائے اہل سیر تدوین حدیث کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں کہ اگر وہ تدوین حدیث کی طرف توجہ نہ دیتے تو بخاری، مسلم، مؤطا اور حدیث کی دوسری کتابیں جو کہ احادیث صحیحہ کا بہترین مجموعہ ہے شاید وجود میں نہ آتیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جہاں تمام بے جا مصارف کے دروازے بند کردیئے تھے وہاں علماء و طلباء کی سرپرستی اور کفالت کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے جن ارباب علم نے اپنے آپ کو تعلیم و تعلم کے لئے وقف کردیا تھا ان کو فکر معاش اور ضروریات زندگی سے بے نیاز کردینا حضرت عمر اپنا فرض سمجھتے تھے۔ چنانچہ حمص کے گورنر کو لکھا کہ جن لوگوں نے دنیا چھوڑ کر اپنے آپ کو فقہ کی تعلیم کے لئے وقف کردیا ہے میرا یہ خط ملتے ہی ان میں سے ہر ایک کو بیت المال سے سو سو دینار دے دو تاکہ وہ تعلیم و تعلم کے سلسلہ کو جاری رکھ سکیں۔ آپ خلافت کا بارگراں اٹھانے سے پہلے نہایت فاخرانہ لباس پہنا کرتے تھے اور ایک مرتبہ جوکپڑا پہن لیتے دوبار ہ اس کو نہ پہنتے، دس پندرہ اشرفی کی قیمت کا جبہ بھی ان کو سخت معلوم ہوتا تھا، اس قدر عمدہ عطر استعمال کرتے کہ جس راستے سے گذرتے وہ خوشبو سے مہک جاتا تھا مگر خلافت کے بعد عطرو لباس قصۂ پارینہ بن گئے، معمولی کپڑے کا صرف ایک جوڑا زیب تن رہتا تھا اور اس میں بھی پیوند لگے ہوتے تھے اور اسی کو دھو دھو کر پہنا کرتے تھے چنانچہ مسلمہ بن عبدالملک کا بیان ہے کہ میں مرض الموت میں عیادت کے لئے گیا تو دیکھا کہ ایک میلی سی پھٹی ہوئی قمیض پہنے ہوئے ہیں میں نے اپنی بہن سے کہا کہ امیر المومنین کی قمیض بدل دو، دوسرے دن گیا تو ان کے بدن پر پھر وہی قمیض نظر آئی میں نے اپنی بہن سے کہا کہ لوگ عیادت کو آرہے ہیں اور امیر المومنین پرانی قمیض پہنے ہوئے ہیں میں نے کل بھی کہا تھا تو وہ بولیں کہ خدا کی قسم اس کے سوا دوسرا کپڑا نہیں ہے۔ آپ کے بچے بھی اسی تنگی سے زندگی بسر کرتے تھے ایک مرتبہ آپ کی بچی امینہ کے پاس کپڑا نہ تھامعلوم ہواتو فرش پھاڑ کر ایک قمیض امینہ کے لئے تیار کرنے کا حکم دے دیا آپ کی بہن ام البنین کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے ایک تھان کپڑا بھیج دیا اور کہلایا کہ عمر سے کچھ نہ مانگا کرو۔ خلافت کے بعد اعلیٰ اور مرغن کھانے ترک کردیئے نہایت معمولی غذا کھاتے تھے اور وہ بھی کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی ایک مرتبہ گھر کے خادم نے آپ کی اہلیہ سے شکایت کی کہ ہر روز دال کھاکھا کر تنگ آگیا ہوں تو انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین کی بھی یہ ہی غذا ہے۔ ایک مرتبہ رجاء بن حیوٰۃ سے گفتگو میں رات زیادہ گذر گئی اور چراغ جھلملانے لگا پہلو میں خادم سو رہا تھا رجاء نے اس کو جگانا چاہا تو آپ نے منع کردیا رجاء نے خود چراغ درست کرنے کا ارادہ کیاتو انہیں بھی روک دیا کہ مہمان سے کام لینا مروت کے خلاف ہے۔ پھر خود اٹھ کر تیل لیا اور چراغ کو ٹھیک کرکے پلٹ کر فرمایا کہ جب میں اٹھا تب بھی عمر بن عبدالعزیز تھا اورجب پلٹا تب بھی عمر بن عبدالعزیز ہوں۔ ایک دفعہ غلام کو گوشت بھوننے کے لئے دیا وہ سرکاری باروچی خانہ سے بھون لایا تو آپ نے اسے ہاتھ تک نہ لگایا اور غلام سے فرمایا کہ تم ہی کھالو میری قسمت میں نہ تھا۔ اسی طرح ایک دن بیت المال میں سیب آئے جو آپ عام لوگوں میں تقسیم کررہے تھے کہ آپ کا کمسن بیٹا آگیا اور اس میں سے سیب لے کر کھانے لگا تو آپ نے اس کے منہ سے چھین لیا وہ روتا ہوا ماں کے پاس پہنچا اور شکایت کی تو ماں نے بازار سے منگوا کر دے دیا گھر پہنچے تو سیب دیکھ کر پوچھا کہ بیت المال کا کوئی سیب تو نہیں آگیا؟ جس پر اہلیہ نے پورا واقعہ بیان کیا تو فرمایا کہ خدا کی قسم وہ سیب میں نے بچے کے منہ سے نہیں اپنے دل سے چھینا تھا لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ مسلمانوں کے حصہ کے ایک سیب کے بدلے میں اپنے آپ کو برباد کردوں۔ ایک مرتبہ رات کو بیت المال کے چراغ کی روشنی میں سرکاری کام کررہے تھے کہ گھر سے غلام آیا اور گھر کی باتیں کرنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے چراغ بجھا دو پھر باتیں کرو اس لئے کہ چراغ میں تیل بیت المال کا ہے اور اس کا استعمال مسلمانوں کے مفاد میں ہی جائز ہوسکتا ہے۔ عشق رسول حضرت عمر بن عبدالعزیز کی رگ وپے میں سرائیت کرچکا تھا، ہر کام میں اسوۂ نبوی کو پیش نظر رکھتے اور آخرت کا ذکر کرتے وقت اکثر یہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ آپ نے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی چند متبرک یادگار جن میں آپ کا پلنگ، گدا، چادر، پیالہ، ترکش، عصااور چکی تھی کو ایک حجرے میں محفوظ کرلیا تھا اور ہر روز اس کی زیارت کرتے اور کبھی کبھی قریش کے لوگوں کو بھی اس کی زیارت کرواتے اور ان سے مخاطب ہو کر کہتے کہ یہ تبرکات اس ذات گرامی کی یادگار ہیں جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں میں معزز بنایا ہے۔ ایک مرتبہ محبوب رسول حضرت اسامہ بن زید کی صاحبزاد ی ملنے آئی تو آپ نے آگے بڑھ کر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھایا اور انہوں نے جو ضرورتیں بیان کی ان کو پورا کیا۔ مدینۃ النبی سے بھی آپ کو اس قدر محبت تھی کہ فرماتے کہ میں یہ تو برداشت کرلوں گا کہ کوئی شخص اس جرم میں میرے سامنے لایا جائے کہ وہ شراب لے جارہا تھا لیکن میں یہ برادشت نہیں کروں گا کہ کوئی ایسا مجرم میرے سامنے پیش کیا جائے جس نے حرم مدینہ میں سے کوئی چیز (درخت یا گھاس) کاٹی ہو۔ خشیت الہٰی کا آپ پر اس قدر غلبہ تھا کہ ہر وقت محاسبہ آخرت کے خوف سے لرزہ براندام رہتے تھے، جب لوگ آپ سے اس قدر گریہ وبکا کے متعلق دریافت کرتے تو فرماتے کہ تم لوگ میرے رونے پر ملامت نہ کرو کیونکہ اگر فرات کے کنارے بکری کا ایک بچہ بھی ہلاک ہوجائے تو اس کے بدلہ میں عمر بن عبدالعزیز پکڑا جائے گا۔ آپ کے اسی احساس ذمے داری اور عدل و انصاف کے قیام کی وجہ سے لوگوں میں آپ کے دور حکومت میں حیرت انگیز روایتیں مشہور ہوگئیں چنانچہ امام سیوطی اور ابن جوزی نے موسیٰ بن اعین کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم کرمان میں بکریاں چرایا کرتے تھے اور بھیڑیئے ہماری بکریوں کے ساتھ چلتے پھرتے تھے لیکن بکریوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ ایک روز ایسا ہواکہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری پر حملہ کردیا تو میں نے کہا کہ آج خلیفہ صالح ضرور اس دنیا سے کوچ کرگیا ہے چنانچہ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ واقعی ایسا ہوا ہے۔ آپ کے کردار و عادات کی وجہ سے بعض افراد کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر یہ زیادہ عرصہ خلیفہ رہے تو پھر ہم کبھی بھی مسند خلافت پر متمکن نہیں ہو سکیں گے چنانچہ انہوں نے آپ کو آپ کے غلام کے ذریعہ زہر دلوایا جس کی وجہ سے آپ بیمار ہوگئے اور بیس دن کی علالت کے بعد آخروہ وقت آپہنچا جو ہر ذی روح کے لئے مقرر ہے اور 20 یا 25 رجب المرجب 101ھ کو آپ پر نزع کی کیفیت طاری ہونے لگی تو آ پ نے لوگوں سے فرمایا کہ مجھے تنہا چھوڑ دو سب چلے گئے آپ کی اہلیہ فاطمہ اور برادر نسبتی مسلمہ بن عبدالملک دروازے کے قریب تھے انہوں نے سنا کہ فرمارہے ہیں کہ کیا مبارک چہرے ہیں جونہ آدمیوں کے ہیں نہ جنوں کے۔ اس کے کچھ دیر بعد تک مختلف آیات قرآنیہ پڑھتے رہے پھر خاموش ہوگئے اس وقت آپ کی عمر صرف 39 سال تھی آپ دوسال پانچ ماہ چودہ دن مسند خلافت پر متمکن رہے۔ آپ کو دیر سمعان میں اسی زمین پر سپر دخاک کیا گیا جو کہ آپ نے اپنی گرہ سے خریدی تھی۔ آپ کے وصال پر پوری دنیا میں کہرام مچ گیا، عام وخاص، عالم و جاہل ، مسلم و غیر مسلم سب ہی صدمے سے چُور ہوگئے اور ہر ایک آپ کی وفات پر رونے لگا اور اپنے اپنے طور پر آپ کو دعائیں دینے لگا۔ محمد بن معبد کا بیان ہے کہ میں شاہ روم کے دربار میں گیا تو اسے سخت غمزدہ دیکھا میں نے پوچھا کہ کیا ہوا آپ لوگوں کا یہ کیا حال ہے؟ بادشاہ بولا کہ تمہیں معلوم ہے کہ آج کیا سانحہ ہوا ہے؟ میں کہا کہ فرمائیے کہ کیا ہوا تو اس نے کہا کہ مرد صالح مسلمانوں کے امیر عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوگیا پھر تھوڑی دیر کے بعد بولا کہ اگر عیسیٰ کے بعد کوئی شخص مردوں کو زندہ کرسکتا تھا تو وہ عمر بن عبدالعزیز ہی تھے، مجھے اس تارک الدنیا راہب کے حال پر کوئی حیرت نہیں جس نے اپنا دروازہ دنیا کے لئے بند کردیا اور عبادت میں مشغول ہوگیا میں تو اس شخص پر حیران ہوں کہ جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی لیکن اس نے راہبوں جیسی زندگی اختیار کی۔ غرض آپ کے یہ ہی اوصاف و محاسن تھے کہ جس کی بناء پر آئمہ و علماء نے آپ کو فاروق ثانی کا لقب دیا حتیٰ کہ ابو سلیمان درانی کا قول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز زہد میں خیرالتابعین حضرت اویس قرنی سے بھی آگے ہیں کیونکہ ان کے پاس دنیا پوری آن و بان کے ساتھ آئی لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا دیا جبکہ اویس قرنی کو تو دنیا سے سابقہ ہی نہیں پڑا۔ فی الحقیقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کی سیرت و کردار کا احاطہ ایک مختصر مضمون میں کرنا نا ممکن ساامر ہے آپ نے ایک مختصر مدت میں جو کارنامے سرانجام دیے وہ رہتی دنیا تک آپ کا نام زندہ و جاوید رکھیں گے نیز آپ کا دورخلافت ہمارے حاکموں کے لئے مشعل راہ ہے کہ جن پر عمل پیرا ہو کر وہ بھی اپنے ممالک کو ایک مثالی فلاحی مملکت بناسکتے ہیں کہ جہاں شیراور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں اور جہاں صدقہ لینے والا کوئی نہ رہے۔ کاش کہ کوئی ایسا حکمراں ہوتا۔ |
0 comments: