سیدنا عثمان غنی کی شخصیت کا اجمالی خاکہ





سیدنا عثمان غنی کی شخصیت کا اجمالی خاکہ

سیدنا عثمان غنی کی شخصیت کا اجمالی خاکہ
از قلم
مولانا سید نذیر حسین شاہ
نام :
اسم گرامی عثمان، لقب ذوالنورین اور کنیت ابوعبداللہ ہے۔
ذوالنورین سے ملقب ہونے کے بارے میں حسین الجعفی کہتے ہیں۔
’’لم یجمع منذخلق اللہ آدم الیٰ ان تقوم السّاعۃ غیر عثمان فلذلک سمی ذوالنورین‘‘
ترجمہ: از آدم تا قیامت، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں رہیں، اسی لئے انہیں ذوالنورین کہا گیا۔
نسب:
والد کی طرف سے آپ کا نسب یہ ہے:عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف ،جبکہ والدہ کی طرف سے آپ کا نسب یہ ہے: ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبدمناف ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا نسب عبدمناف میں مل جاتا ہے۔ والدہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا تعلق بڑا قریبی ہے۔ آپ کی نانی ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپی ہیں، اس طرح آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپی زاد ہیں۔
ولادت:
عام الفیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی سے 47 سال قبل مکہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بچپن اور سن رشد کے حالات پردۂ خفا میں ہیں، البتہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ عام عرب کے برخلاف آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیاتھا۔ والد تاجر پیشہ تھے، آپ بھی اسی پیشہ سے وابستہ ہوئے اور اپنی صداقت و دیانت اور راست بازی کے باعث غیر معمولی فروغ پایا۔
خاندانی پس منظر:
ام القریٰ ’’مکۃ المکرمہ‘‘ میں دو ایسے خاندان تھے جنہیں دیگر عرب قبائل پر غیر معمولی وقعت و اقتدار حاصل رہا۔ ایک بنو ہاشم اور دوسرا بنوامیہ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاندان”بنوامیہ”سے تھے۔
آپ کے جداعلیٰ امیہ بن عبدشمس رؤسائے قریش میں تھے، مشہور زمانہ ’’خلفاء بنی امیہ‘‘ اسی ’’امیہ‘‘ کی طرف منسوب ہو کر’’امویین‘‘کہلائے۔
قریش کا علم ’’عقاب‘‘اسی خاندان کے پاس تھا۔ جنگ فجار میں اسی خاندان کا نامور سردار ’’حرب بن امیہ‘‘ سپہ سالار اعظم تھا۔ ابوسفیان بن حرب قبول اسلام سے پہلے غزوۂ بدر کے بعد تمام غزوات میں رئیس قریش کی حیثیت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں رہا۔ ابوسفیان بھی اسی خاندان کا ہے، المختصر اگر بنو ہاشم کا مقابل حریف اور ہمسر اگر کوئی تھا تو وہ خاندان ’’بنی امیہ‘‘ تھا۔
قبول اسلام:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گلشن حیات پر چونتیسواں بہار ہے کہ مکہ کی مشرکانہ فضا میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی صدا بلند کی۔ اگر چہ صدیوں سے توہمات اور تخیلات میں جکڑے ہوئے ماحول میں یہ صدا نامانوس تھی۔ تاہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنی فطری عفت، پارسائی، دیانتداری، راست بازی اور نگاہ حق بین کے باعث اس داعی حق کی صدا پر لبیک کہنے کے لئے تیار تھے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غلامی رسول کے اعزاز سے مشرف ہوچکے ہیں۔ آپ نے اپنے حلقۂ احباب کو اس پیغام حق سے آشنا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایام جاہلیت میں جناب ابوبکر اور جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں گہرا ارتباط تھا، اکثر صحبت رہتی۔ ایک دن اسلام پر گفتگو ہوئی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے اسلام کا تعارف اس مؤثر انداز سے پیش کیا کہ آپ اسی وقت بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عثمان، خدا کی جنت قبول کر میں تیری اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوا ہوں‘‘۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں زبان نبوت کے ان سادہ اور شیریں جملوں میں کیا تاثیر تھی کہ میں بے اختیار ’’کلمۂ شہادت‘‘ پڑھنے لگا۔
اس مقام پر اگر یہ بات پیش نظر رہے تو حضرت عثمان کی للّٰہیت اور خلوص کا ادراک بآسانی ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاشمی ہیں، جب کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ بنوامیہ سے۔ یہ خاندان بنو ہاشم کا قدیمی مقابل اور حریف ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ بنی ہاشم کی ترقی ان کا زوال ہے۔ قیادت اور سیادت کے تمام راستے بنی ہاشم کی طرف چلے جائیں گے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مصطفوی تحریک کو مٹانے اور دبانے کی ہر کوشش میں بنی امیہ دکھائی دیتے ہیں، مگر قربان جائیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ذات پر کہ آ پ کا سینہ ان تمام خاندانی، قبائلی اور جاہلیت پر مبنی تعصبات، حسد، بغض اور تنگ نظری کے ہر غبار سے پاک ہے۔ خاندان کے سارے پس منظر اور حال کی جملہ مشکلات کے باوجود آپ نے محمد عربی فداہ امی وابی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو ہر منصب پر فوقیت دی۔
داماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستگی اختیار کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخلص اور وفادار غلام کو اس اعزاز سے نوازا جو قافلۂ انسانیت میں صرف اور صرف آپ کا خاصہ بن گیا یعنی اپنی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی منجھلی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح پہلے ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کے باعث، عتبہ نے طلاق دے دی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کردیا۔
غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑگئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو ان کی تیمار داری کے لئے مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا اور فرمایا کہ تمہیں شرکت جہاد کا اجر اور مال غنیمت کا حصہ دونوں ملیں گے۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے وصال فرمانے پر آپ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی آپ کے نکاح میں دے دیں۔
خدمات:
قبولیت اسلام سے وقت شہادت تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے لئے رہی۔ غزوۂ بدر کے علاوہ دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ خصوصاً غزوۂ تبوک میں آپ کی خدمات اور ایثار بے مثال ہے۔ 9ہجری میں مشہور ہوا کہ قیصر روم حملہ کرنے کا ارادہ کررہا ہے، اس کا تدارک ضروری تھا۔ یہ زمانہ مسلمانوں پر مالی اعتبار سے بڑاتنگی کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری کیلئے امداد کی ترغیب دلائی۔ سب نے فوراً لبیک کہا۔اس موقع پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تہائی فوج کی مکمل تیاری اکیلے اپنے ذمہ لی۔ اس مہم میں تیس ہزار پیادے اور دس ہزار سوار شامل تھے۔ گویا آپ نے دس ہزار افراد کے لئے جملہ سامان فراہم کیا۔ اور اس اہتمام سے کہ تسمہ تک آپ کے مال سے خریدا گیا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار اونٹ، ستر گھوڑے اور سامان رسد کے لئے ایک ہزار دینار پیش کیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اس فیاضی سے اس قدر خوش ہوئے کہ اشرفیوں کو دست مبارک میں لے کر فرماتے رہے۔ ’’ماضر عثمان ماعمل بعد ھذا الیوم‘‘ آج کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) کا کوئی عمل اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔
خلافت:
11ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ اوّل بنے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ کی مجلس میں شوریٰ کے رکن تھے۔ سوا دوبرس کی خلافت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے۔ حضرت عمر کی خلافت کا وصیت نامہ جو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھوایا وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی لکھا۔ لکھاتے وقت خلیفہ کا نام لکھوانے سے قبل حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر غشی طاری ہوگئی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی عقل و فراست سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا نام لکھ دیا، جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہوش میں آئے تو فرمایا: ’’پڑھو کیا لکھا ہے‘‘ سنانا شروع کر دیا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا تو جناب صدیق اکبر بے اختیار اللہ اکبر پکار اٹھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فہم و فراست کی بہت تعریف کی۔
دس برس کی خلافت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ ایام شہادت میں لوگوں کے اصرار پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کے لئے چھ نام تجویز کیے۔ جن میں حضرت عثمان، علی، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نام شامل تھے، شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تیسرے دن یعنی چار محرم 24ھ دوشنبہ کے دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اتفاق عام سے مسند نشین خلافت ہوئے۔
فتوحات:
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے پیش روجناب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نرمی اور لطافت اور جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیاست ، اقدام اور فتوحات کو اپنا شعار بنایا۔
آرمینیہ اور آزربائیجان 24ھ میں فتح کیے۔ 27ھ میں طرابلس فتح کیا۔ اور 28 ھ میں قبرص (سائبرس) پر بحری بیڑے کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ 30ھ میں خراسان، طبرستان، افغانستان کے علاقے کابل اور ہرات جبکہ ماوراء النہرکے بہت سے علاقے مفتوح ہوئے۔ 31ھ میں قیصر روم نے پانچ سو جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کے ذریعے شام کے سواحل پر حملہ کردیا، مگر مسلمان بحریہ کامیاب رہی اور رومیوں کے پاؤں اکھڑگئے۔
اسباب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سالہ دور خلافت کے شروع کے چھ سال مکمل امن اور سکون رہا۔ فتوحات کی وسعت، مال غنیمت کی فراوانی، وظائف کی زیادتی، زرعی ترقی اور حکومت کے عمدہ نظم و نسق نے پورے ملک میں تمول، فارغ البالی اور عیش و تنعم کو عام کردیا۔ بعض حضرات زمانہ نبوی کی سادگی اور بے تکلفی کو یاد کرکے اس زمانے کی دولت اور تعیش پر مغموم رہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو کھلے عام وعظ کرتے تھے کہ ’’ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا مسلمان کے لئے جائز نہیں‘‘۔
کثرت مال، تعیشات کی بہتات اور دنیا کی فراوانی نے آخر کار ملت اسلامیہ میں وہ لوازم پیدا کردیئے جو ان حالات میں ہر قوم میں پیدا ہوتے ہیں اور ضعف و انحطاط کا سبب بن جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’لااخاف علیکم الفقر بل اخاف علیکم الدنیا‘‘دولت کی فراوانی کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قومی اور اجتماعی فوائد کے بجائے شخصی فوائد ترجیح پانے لگتے ہیں، نتیجتاً بغض و عناد پیدا ہوتا ہے اور قومی و حدت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور دورانحطاط شروع ہوجاتا ہے، کچھ دیگر اسباب بھی فتنہ و سازش میں کار فرما ہیں۔
(1) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ نسل جو نگاہِ نبوت سے براہ راست مستفید ہوئی یا تو اللہ کو پیاری ہوگئی یا وہ کبرسنی کی وجہ سے گوشہ نشین رہے۔ ان کی جگہ جو نوجوان نسل آئی۔ یہ زہد، عدل، تقویٰ، انصاف،حق پسندی اور راست بازی میں ان اکابر کی طرح نہ تھے اور نہ ہی رعایا کے لئے ان کے فرشتۂ رحمت ثابت ہوئے۔
(2) کابل تامراکش اسلامی سلطنت میں سینکڑوں اقوام تھیں، یہ اگر چہ مسلمانوں کے خوف سے خاموش تھیں، مگر جذبہ انتقام ان میں موجود رہا۔ موقع پاتے ہی وہ متحرک ہوجاتے۔
(3) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فطرتاً نیک، ذی مروت، نرم خو، اور حلیم الطبع تھے، سختی سے اجتناب فرماتے، اس بات سے اشرار کے حوصلے بڑھ گئے۔
(4) عام عرب اور دیگر اقوام قریشیوں کی طرح حکومت اور مناصب میں برابر کی شرکت چاہتے تھے کہ فتوحات میں ان کے قوت بازو کا بھی بڑا دخل ہے۔
(5) یہود اور مجوس بحرحال مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کو منتشر کرنا چاہتے تھے۔
شہادت:
مختلف عناصر نے مل کر افتراء اور کذب بیانیوں سے اس طرح آپ کو بدنام کیا۔ اور یہ صور اس قوت و شدت سے پھونکا گیا کہ مدت مدید گزرنے کے باوجود آج بھی ایک طبقۂ فکر انہیں درست سمجھ کر داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کررہا ہے۔
مصر، شام اور عراق کے یہ سازشی عناصر 35ھ میں حجاج کے روپ میں مدینہ منورہ پہنچے اور آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا، چالیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا اور آپ کا کھانا پینا بند کردیا گیا۔ جمعہ کا دن ہے، آپ رضی اللہ عنہ روزے سے ہیں۔ خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم تشریف فرما ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عثمان! جلدی کرو، ہم تیرے افطار کے منتظر ہیں‘‘۔
ایک روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا‘‘۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیس غلاموں کو بلا کر آزاد کردیا اور قرآن مجید کھول کر تلاوت شروع کردی۔
باغی گھر میں کودے ، مزاحمت کی وجہ سے آپ کی زوجہ حضرت نائلہ کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔
جب آپ کو شہید کیا گیا تو قرآن حکیم کی اس آیت پر آپ کا خون گرا:
’’فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم‘‘
ترجمہ: ’’تمہارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ سننے والا جاننے والاہے‘‘۔
دو دن تک جسم مبارک بے گورو کفن پڑا رہا۔ سنیچر کا دن گزار کر چند افراد نے جانوں پر کھیل کر تجہیز و تکفین کی اور غسل دیے بغیر خون آلود پیراہن میں شہید کا جنازہ اٹھا۔ کابل سے مراکش تک فرمان روا کا جنازہ صرف سترہ افراد پڑھ پائے۔ جنت البقیع میں مزار مبارک ہے۔

0 comments:

Post a Comment | Feed

Post a Comment



SHARE..!

Bookmark and Share
 

Flag Counter

free counters

Islam The GrEat Copyright © 2009 Premium Blogger Dashboard Designed by SAER