سیرتِ طیبہ کے اہم گوشے سیرتِ طیبہ کے اہم گوشے از قلم مجاہد ملت علامہ الحامد بدایونی قادری رحمۃ اللہ علیہ حضورسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور قدسی سے قبل کائنات عالم میں حضرات انبیاء کرام علہیم الصلوٰۃ والسلام کی پیش کردہ تعلیمات مسخ ہوچکی تھیں، کتب الٰہیہ کے احکام و ارشادات کو لوگوں نے نسیاً منسیاً کردیا تھا۔ ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ نیکی کے بجائے بدی، حق کی جگہ کفر و ظلمت کا دور دورہ تھا۔ قتل و غارت گری محیط تھی بحرو بر میں فسادات کی گرم بازاری تھی۔ دنیا کا کوئی گوشہ بھی ایسا نہ تھا جہاں حق و صداقت اپنی اصلی صورت کے ساتھ موجود ہو۔ حتیٰ کہ کعبۃ اللہ جیسا مقدس گھر جو عبادت الٰہیہ کی خاطر تعمیر کیا گیا تھا، صدہابتوں کا مرکز بن چکا تھا۔ جس مقام سے توحید کی منادی ہونی چاہیئے تھی، ناقوس بجتے تھے۔ خدائے واحد کے سامنے سر عبودیت جھکانے کے بجائے اصنام پرستی کی جاتی تھی۔ خدا کی پاکیزہ سر زمین شرک کی آلائشوں سے نجس کی جارہی تھی۔ اخلاقیات کی تمام اعلیٰ قدریں مٹ چکی تھیں جہاں حضرت صفی اللہ و حضرت خلیل اللہ علیہما السلام کے پاکیزوں ہاتھوں سے توحید کی بنیاد رکھی گی وہاں ہر آن شرک و بت پرستی پھیل رہی تھی۔ خدا پرستی چھوڑ کر یہاں کے باشندے اعمال و کردار کے لحاظ سے اس قدر گرگئے تھے کہ حرام کاریاں، بداعمالیاں ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن گئی تھیں۔ نسل کشی کا یہ عالم تھا کہ ماں کی گود سے لڑکیاں زبردستی چھین کر زندہ در گور کردی جاتیں۔ جوئے بازی میں عورتوں کا ہارا جانا، فواحش و محرمات پر افتخار کرتے ہوئے قصائد پڑھنا، اپنی بداعمالیوں اور سفاکیوں کے گیت گانا داخل حیات ہوگیا تھا۔ عدل و انصاف، مساوات و اخوت معدوم تھے۔ تہذیب و تمدن کا نام اس وقت کی دنیا سے معدوم ہوچکا تھا۔ اس گندے ماحول میں کسے خبر تھی کہ اس سر زمین سے ایک ایسے معلم کامل کا ظہور ہوگا جو قلیل مدت میں تمام خرابیوں کو دور فرما کر نہ صرف حجاز کے گوشوں بلکہ ساری دنیا کو انور و برکات سے معمور فرمادے گا۔ جو سب سے بڑے مشرک ہیں انہیں عالم کا بہترین عابد بنادے گا جو تہذیب و شائستگی اخلاقیات کے لحاظ سے بدترین افراد سمجھے جاتے ہیں، انہیں تمدن و تہذیب اخلاقیات، اعمال و عبادات، تجارت و صنعت، حکومت و سلطنت، جمہوریت و مساوات کا ایسا معلم و استاد بنادے گا جس سے دنیا تمتع حاصل کرے گی۔ اس کی سیرت و کردار، اس کا لایا ہوا صحیفہ پوری کائنات کا قلب ماہیت فرمادے گا۔ کتاب مجید اور سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مقدس حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا وہ کامل و مکمل صحیفہ ہے جس کے اندر انسانیت کے ہر گوشۂ حیات کا قانون اورہدایات موجود ہیں۔ سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا قرآن مقدس کی تفسیر و تشریح ہے اگر کسی جگہ اجمال تھا تو سیرت نبویہ اور ارشادات عالیہ میں متن قرآن کی وضاحت فرمائی گئی۔ قرآن حمید اپنی جامعیت کے لحاظ سے ایک ایسا دستور و ضابطہ الٰہی ہے جس میں ہر قسم کے علوم و ہدایات موجود ہیں جیسا کہ فرمایا گیا ’’ولا رطبٍ ولا یابسٍ الا فی کتاب مبین‘‘ جب کتاب حمید میں ہر چیز کا بیان روشن موجود ہے حتیٰ کہ کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو اس کے اندر موجود نہ ہو اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآنی مفہوم مطالب کا جانے والا نہیں جب آپ اس کے عالم اور معلم تھے تو سیرت نبویہ میں دین و دنیا کی بہتری فوز و فلاح کا وہ کون سا ایسا راستہ ہوگا جس کی ہدایات نہ ہوں۔ سیرت نبویہ کی جامعیت حضرات انبیاء و مرسلین کرام علیہم السلام خدائے برتر کے سچے رسول تھے۔ ان کی تعلیمات شریفہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں وہ نمایاں فرق ہے کہ وہ مقدمین خاص خاص زبانوں، مخصوص قبائل و اقوام کے لئے تشریف لائے اور چند ہدایات و تعلیمات ارشاد فرمائیں۔ ہمارے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعثت کا وہ وقت ہے جبکہ دنیا جہاں پر تاریکیاں پھیلی ہوئی تھیں، ضرورت تھی کہ ایک ایسا رسول برحق تشریف لائے جو اپنی سیرت سے ساری دنیا کو مستفیض فرمادے۔ وہ ایک طرف سب سے بڑا موحد ہو اور رب العزت تبارک تعالیٰ سے اس کا ہر آن قرب خاص ہو۔ اس کے اخلاق کائنات کے انسانوں سے اعلیٰ ترین ہوں، وہ جمیع مخلوقات کا معلم بن سکے، اس کی تعلیمات ایسے انداز پر پیش ہوں کہ عالم و جاہل سب استفادہ کرسکیں، وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا خطیب بھی ہو اور دنیائے عدل و انصاف کا سب سے بڑا عادل و منصف بھی ہو۔ اگر علوم الٰہیہ حاصل کرنا ہوں تو اس کی درس گاہ سے الٰہیات کی تعلیم دی جاسکے۔ عقل و برہان والے مجتمع ہو کر کلام کریں تو وہ براہین و دلائل سے طمانیت کرسکے۔ امرؤ سلاطین، تاجداران وقت، سیاست داں، میدان محاربات کے ماہرین آئیں اور وہ اپنی زندگی کے لئے ہدایات چاہیں تو وہ ان کی تسلی کرسکے، واضعان دساتیر و قوانین اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو انہیں ایک مکمل خاکہ دیا جائے، ارباب تجارت معلومات حاصل کرنا چاہیں تو اس کی سیرت مبارکہ نہایت تفصیل کے ساتھ دفعات پیش کرسکے، عالم فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے اس سے افلاک کے احوال پر گفتگو کریں، اہل نجوم ستاروں کی دنیا سے متعلق استفسارات کریں، دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں، فنون، احجار و اشجار والے اکتساب کرنا چاہیں تو ان کا دامن وسیع تر ہوجائے۔ علم الشعر والادب کا طائفہ اور علم مناظرہ مجادلہ کرنے والوں کا گروہ آئے اور وہ فصاحت و بلاغت یا مناظرانہ رنگ میں بات کرے تو دربار نبوت میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوا رخصت ہو۔ جو کچھ کہا جارہا ہے لفاظی یا واعظی نہیں بلکہ حقائق ہیں۔ عناوین مذکورہ بالا کو سامنے رکھ کر اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادت عالیہ اور آپ کا عمل و کردار ہر دور کے لئے باعث مثال و ذریعہ نجات و کامرانی ہے۔ آپ نے دنیا کے طبقات کے لئے ایک ایسی جامع سیرت چھوڑی ہے کہ نظریات عالم میں اگر کوئی بھی طبقہ ہو اس کے لئے ذخیرۂ معلومات موجود ہے۔ ایک ایسا ہادی و معلم جس کا دائرہ تعلیم و اصلاح پورے عالم سے متعلق ہو جو کائنات کا رسول بن کر آیا ہو کیسے ممکن ہے کہ اس کی سیرت کے گوشے اس قدر جامع نہ ہوں جو عالم کے لئے نمونہ بن سکیں۔ اس لئے قرآن حکیم نے فرمایا:لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنہ ایک مومن دین و دنیا کی ہر راہ کے لئے سیرت نبویہ سے استفادہ کرکے ہدایت لے سکتا ہے۔ یقین کیجئے سیرت نبویہ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرسکتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو ہر وقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن مقدس یا شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ کسی حالت میں جائز و درست نہیں ہو سکتیں اور نہ جائز حرام ہوسکتا ہے۔ سیرت مقدسہ نے احکام خداوندی کے ماتحت جو حدود مقرر کردی ہیں، انہیں کے تحت ہمیں رہنا پڑے گا۔تعمیر نو کرتے بھی ہمارا یہی فریضہ ہوگا کہ نظریات جدیدہ کی ترتیب کے وقت ہم یہ دیکھیں کہ قرآنی نظریات و سیرت طیبہ کی دفعات سے تو ہمارے نظریات نہیں ٹکراتے اور اصول شرع پر تو ٹھیس نہیں لگتی۔ سیرت نبویہ کی پہلی اساس ’’حفاظت توحید اور تبلیغ واشاعت‘‘ جس طرح انبیاء کرام کی اساس دعوت توحید اور اس کا تحفظ تھا۔ سیدالانبیاء فخر الرسل حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے توحید کا پیام پیش فرمایا اور شدید سے شدید مواقع و مشکلات کے باوجود توحید کی تبلیغ جاری رکھی۔ اعلان نبوت سے قبل بچپن کے زمانے سے ظہور نبوت تک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا سبق دیا، کسی وقت بھی آپ کا بت پرستی سے ادنیٰ تعلق نہیں تھا نہ آپ نے اصنام باطلہ سے خود کو وابستہ کیا۔ آپ بچپن ہی سے شرک و بت پرستی سے متنفر تھے۔ حضرت سبحانہ و تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ کھلم کھلا دین کی تبلیغ فرمائیں اس حکم کے بعد حضور پاک نے توحید کی دعوت منظم طور پر شروع فرمائی بت پرستی اور شرک کا رد ہر موقع پر کرنا شروع کردیا۔ اہل مکہ بت پرستی کے خلاف دعوت و تبلیغ کو برداشت نہ کرسکے، دعوت حق کو روکنے کی خاطر انہوں نے بھی سختی سے اقدامات کا آغاز کردیا، چھوٹے چھوٹے بچوں کو آپ پر مامور کردیا گیا وہ طفلانہ حرکات ناشائستہ کرتے مگر حضور پاک تبلیغ ترک نہ فرماتے تا آنکہ اہل مکہ نے ایک وفد ترتیب دیا جو حضرت ابوطالب کے پاس پہنچا کہنے لگا تمہارے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کے خلاف جہاد شروع کردیا ہے جو ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے اگر تم نے فوری طور پر انہیں اس دعوت سے نہ روکا تو ہمارے تمہارے درمیان ایسی جنگ چھڑ جائے گی جو سارے عرب کو تباہ کردے گی بہتر ہے کہ اس آگ کو فوراً ٹھنڈا کردو ورنہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب مکہ معظمہ میں ہر چہار جانب حضور شہنشاہ کونین کی مخالفتیں جاری تھیں۔ سوائے ابو طالب کے ظاہری طور پر کوئی دوسرا معاون و مددگار نہ تھا۔ ابو طالب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے بیٹا تکلیف مالا یطاقنہ دو اتنا بوجھ ڈالو جتنا میں اٹھا سکوں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے چچا کے ان خیالات کو سماعت فرما کر پوری قوت و عزم کے ساتھ جواب دیا۔ اے چچا! خدا کی قسم اگر وہ سورج کو سیدھے ہاتھ پر رکھدیں اور چاند کو الٹے ہاتھ پر تب بھی میں فریضہ تبلیغ ترک نہ کروں گا۔ چچا بھتیجے کے عزم و ثبات کو دیکھ کر خوش ہوگئے، اب کفار کی سختیاں فزوں تر ہوگئیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مساعی تبلیغ کا سلسلہ بڑھا دیا۔ سفر طائف اور تبلیغ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ہر حصے میں تشریف لے جا کر تبلیغ فرماتے تاآنکہ حضور نے سفر طائف فرمایا اور وہاں کے عوام و خواص کو توحید کا پیام دیا وہاں کے لوگوں نے حضور پر یورشیں کردیں تاآنکہ آپ سخت مجروح ہوئے اسی حالت میں مکہ معظمہ واپس آئے۔ تکالیف کے بعد آپ کی ہمت و جرأت اور بڑھ گئی تاآنکہ وہ وقت شروع ہوگیا کہ آپ کا آوازہ تبلیغ کامیابیوں کی راہوں پر پہنچ گیا۔ مکہ معظمہ میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ ادھر مدینہ سے وفود آنے شروع ہوگئے اور ایک اچھی تعداد مشرف با اسلام ہوگئی۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیصلہ حضور انور روحی الفداء کو خدائے برتر نے قوت فیصلہ ممتاز حیثیت میں عطا فرمائی تھی۔ آپ کی اصابت رائے اور دیانت و تدبر کے سب معترف تھے۔ آپ کی ابتدائی زندگی میں مکہ معظمہ کے اندر حجر اسود کی تنصیب کے موقع پر قبائل عرب میں شدید نزاع و اختلاف پیدا ہوا۔ قریب تھا کہ قبائل دست و گریباں ہو کر ایک دوسرے کو ختم کردیں کہ ان کے بعض افراد نے طے کیا کہ کل صبح سویرے جوشخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا وہ ہمارا حکم ہوگا۔ قدرت الٰہی کی طرف سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو شرف دیا گیا کہ آپ سب سے پہلے حرم میں داخل ہوئے۔ آنے والوں کا انتظار فرماتے رہے جب سرداران قریش آئے تو انہوں نے دیکھا کہ حضور تشریف فرما ہیں۔ سب نے متفقہ طور پر آپ کو اپنا حاکم مقرر فرمایا آپ نے حکم فرمایا ایک چادر لائی جائے اور تمام قبائل سے ایک ایک نمائندہ منتخب کیا جائے جو چادر پکڑے، سب نے چادر پکڑا کر اسے اٹھایا حضور نے اپنے دست مبارکہ سے حجر اسود کو پہلے چادر میں رکھا دیوار کعبہ تک چادر کو اٹھوایا اور حجر کو اپنے ہاتھ سے دیوار میں نصب فرمادیا۔ آپ کے اس فیصلے نے قبائل کی جنگ عظیم کو ختم کردیا۔ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت جج حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم مکی و مدنی زندگی میں ہر موقع پر مہمات نازک و مقدمات کا فیصلہ بغیر خوف لومۃ لائم فرماتے اور کسی کی طرفداری نہ فرماتے۔ جو امر حق ہوتا اس کے مطابق تجویز کردیتے۔ ایک بار یہودی اور منافق مسلمان میں نزاع ہوا یہودی نے تجویز کیا کہ یہ مقدمہ بارگاہ رسالت میں رجوع ہو جو فیصلہ ہوگا اس پر میں عمل کروں گا۔ چنانچہ یہ معاملہ حضور کے پاس پہنچا آپ نے مقدمہ کی تحقیقات فرمائی اور یہودی کو بے قصور ٹھہرا کر اسے کامیاب کیا۔ اسی طرح ایک ہاشمیہ نے چوری کی آپ نے واقعات کی جانچ پڑتال فرما کر اس کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ منافقین اور کفار نے اس فیصلے کا علم حاصل کرکے طعن شروع کئے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی دشمنوں کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مضطرب ہوگئے آپ کی خدمت اقدس میں حضرت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو مامور کیا۔ حضرت زید نے حاضر ہو کر بارگاہ رسالت میں معروضہ کیا حضور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا: اے زید کیا تو یہ چاہتا ہے کہ جس طرح گذشتہ زمانے میں بڑوں کی سزائیں معاف کرکے چھوٹوں پر تکالیف ڈال دی جاتی تھیں، جس کی پاداش میں عذاب الٰہی آتا تھا کیا میں بھی ویسا ہی کروں؟ قسم ہے خدا کی اگر یہ فعل میری بیٹی فاطمہ نے کیا ہوتا تو اسے بھی یہی سزا تجویز کرتا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اسی قسم کے فیصلہ جات سے لبریز ہے نیز مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ اقوام وملل کے فیصلے اس خوبی سے فرمائے کہ دنیائے عدل حیران رہ گئی۔ آپ اگر چہ ظاہری طور پر امی تھے مگر حضرت حق سبحانہ تعالیٰ کے دربار عالی سے اکتساب علم فرماتے۔ آپ کو کائنات عالم عطا کئے گئے آپ نے فیصلہ جات کے لئے مستقل دستور وقواعد مرتب فرمائے اور قرآن حکیم کی اساس پر ان کو ظاہر فرمایا۔ حضورانور بحیثیت امین کفارو مشرکین عرب اگر چہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید اختلاف رکھتے مگر آپ کی صفات حسنہ پر یقین رکھتے تھے۔ اس وقت عرب میں ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جو امین و خزانچی بن کر لوگوں کی رقوم کو بحفاظت رکھ سکے اور وقت پر ادائیگی کرسکے اس اہم کام کے لئے ایک ذات نبوت ہی تھی جس پر مخالفین، مخاصمین کو اعتماد تھا۔ چنانچہ قوم کی امانتیں آپ کے پاس جمع ہوتیں اور جب کوئی شخص طلب کرتا بلا توقف اپنی امانت حاصل کرتا۔ حضور پاک کو امانتوں کا غایت درجہ خیال تھا یہاں تک کہ بوقت ہجرت مدینہ منورہ آپ نے حضرت مولائے کائنات سیدنا شیر خدا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر مبارک پر آرام فرمائیں اور حضور کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ والوں کی تمام امانتیں علیحدہ علیحدہ پہنچائیں۔ ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مومن دیانتداری اختیار کریں جس کی امانتیں ہوں ان میں تغافل نہ ہو بغیر کسی منافع و اجر کے رقوم جمع کی جائیں اور ان کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہ ہوں۔ حضور اکرم ا بحیثیت تاجر حضور پاک نے تجارتی شعبے کو بدرجہ اتم کامیاب فرمایا۔ تجارت کرنے والوں کے لئے قواعد مرتب فرمائے۔ تجارت، کسب حلال کو ضروری قرار دیا اور خود بہ نفس نفیس تجارت کو ایسے نہج پر چلایا جو دنیا کے لئے ایک مثالی حیثیت بن گیا۔ مکہ معظمہ میں بی بی خدیجہ ایک مشہور تاجرہ اور دولت مند تھیں انہوں نے حضور کی دیانت و امانت، صداقت واخلاق حسنہ کا تذکرہ سن کر خواہش کی کہ حضرت ان کا مال تجارت باہر بیچ آئے حضرت نے ان کی خواہش کو قبول فرمایا آپ نے یہ تجارتی سفر شروع فرمایا جو دنیائے تجارت اور آپ کی تجارتی زندگی کا پہلا قدم تھا۔ انتہائی دیانتداری محنت و جانفشانی کے ساتھ حضور نے کار ہائے تجارت انجام دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کو کامیاب فرمایا مراجعت سفر پر بی بی خدیجہ کو جب رپورٹ ملی اور منفعت کے حالات معلوم ہوئے تو وہ بے حد خوش ہوئیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیام عقد دیا جسے حضور نے قبول فرمایا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کو صحیح بنیادوں پر قائم فرمایا اس کے لئے ضوابط مقرر کئے اور ارشاد فرمایا: یعنی تجارت ضرور کرو اس میں رزق کا ۱۰/۹ حصہ ہے (احیاء العلوم) حضرت عبداللہ راوی ہیں حضور نے فرمایا: حلال روزی کی تلاش کرنا فرض ہے بعد فرض کے۔ حضرت ابن سعید راوی ہیں حضور نے فرمایا: سچا اور ایماندار سوداگر انبیاء و صدیقین و شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ ترمذی) آپ نے تاجروں کو ہدایت فرمائی کہ زیادہ قسم کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ اس وقت تو مال فروخت کرادیتی ہے لیکن پھر نقصان ہوتا ہے (رواہ مسلم) حضور انور نے تاجروں کو حکم دیا کہ وہ تجارت میں حسن معاملات کریں اور اخلاق و محبت سے تجارت چلائیں چنانچہ ارشاد فرمایا ہے: جابر بن عبداللہ راوی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا اس پر رحم کرے جو بیع کرنے اور خریدنےاور تقاضہ کرنے میں آسانی کرتا ہے۔ تجارت میں دھوکہ فریب دینا شرعاً ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حضور نے ہر ہر موقع پر تاجروں کو نصیحت فرمائی کہ وہ مال کی نوعیت کا اظہار خریدار پر کردیں، معاملات صحیح رکھیں اگر چہ مالک کو اپنی چیز کی قیمت تجویز کرنے کا اختیار ہے اور خریدار کو قبول کرنے نہ کرنے کا لیکن ایسا سودا کرنا جس میں نفع زیادہ سے زیادہ اور چیز بری سے بری ہو ممنوع ٹھہرایا گیا۔ جس طرح تاجروں کو ہدایت تھیں اسی طرح تجارت کرنے والوں کی راہ میں سہولتیں پیدا کرنا بھی لازمی ہوا۔ خواہ مخواہ ایسی قید عائد کرنا جن سے تجارت پیشہ طبقہ سراسیمہ ہو جائے اور کاروبار تجارت میں سوائے نقصان و خسارے کے منافع حاصل کرنے کے ذرائع مسدود ہوجائیں ایسے طریقے بھی بلاشبہ سیرت طیبہ نے ممنوع قرار دئے۔ الغرض سیرت نبویہ نے تجارتی عنوانات پر مکمل ہدایات دیں اور تاجروں کو سبق دیا کہ وہ دیانتداری کے ساتھ تجارت کریں، لین دین میں دغا بازیاں نہ کریں، ان کے معاملات صداقت و ایمانداری کے ساتھ جاری رہیں، وہ جس ملک میں جائیں اسلامی کردار و اخلاق باقی رہیں وہ ہر جگہ پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کریں دوسروں کی مصیبت میں کام آئیں جہاں دولت سے اپنی ذات و خاندان کو فوائد پہنچائیں ان کی دولت اسلام کے لئے وقف رہے۔ چنانچہ سیرت مطہرہ پر عمل کرنے والوں میں حضرت سیدنا صدیق اکبر، حضرت سیدنا عثمان غنی اور احباب اہلیت اطہار نے دولت کا جو مصرف راہ خدا اور قومی خدمت کے لئے معین فرمایا وہ اسلام کا سنہری باب ہے۔ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے اپنا سب کچھ پیش کردیتے، حتیٰ کہ خود فاقہ کرنا پسند کرتے مگر اسے گوارہ نہ کرتے کہ اسلامی عظمت و فتوحات میں دولت صرف نہ ہو۔ پھر یہ تاجر دنیا کے جس حصے میں جاتے ان کی سیرت و کردار سیرت نبویہ کے مطابق ہوتی۔ یہ تجارت بھی کرتے اور اسلام کی تبلیغ بھی۔ پس ہمارے تاجروں کا فرض ہے کہ تجارت کے ساتھ تبلیغی کوشش جاری رکھیں۔ دولت ضرور اکٹھی کی جائے اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے مگر اس طرح نہیں کہ غریب عسرت میں ہو اور دولت مند اس کی خدمت و اعانت سے غافل ہو۔ حضور انور بحیثیت قائد فوج حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم بالطبع ہر موقع پر جنگ اور محاربات کو پسند نہ فرماتے تھے۔ لیکن جب دشمن سر پر آجاتا اور ترویج اسلام کی راہ میں مشکلات پیدا کرتا یا مسلمان پر اقدام کردیتا تو حضور پاک بحیثیت قائد فوج کے جلوہ افروز ہوتے لیکن آپ کی یہ ہدایات تھیں کہ آغاز جنگ سے پیشتر ان کے سامنے اسلام پیش کرو یا جزیہ کے لئے کہو۔ اگر وہ دونوں چیزوں میں سے کوئی چیز قبول نہ کریں تو خدا پر بھروسہ کر کے کفار کا مقابلہ کرو لیکن میدان جنگ میں بوڑھوں، عورتوں، بچوں کے قتل سے شدید احتیاط کی جائے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر جب مسلمانوں کا مضبوط مرکز قائم ہوگیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل اور جماعتوں سے معاہدے فرمائے۔ حتیٰ الامکان اپنی طرف سے کسی لڑائی کا آغاز نہ فرمایا۔ جب کفار کسی طرح بھی امادۂ صلح و امن نہ ہوئے اور یہی تہیہ کرلیا کہ اسلام کو قوت و طاقت کے ذریعہ ختم کریں گے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ فرمایا۔ جس قدر غزوات ہوئے ان سب میں جنگ کی حالت میں قیدیوں سے حسن سلوک فرماتے۔ خود قیدیوں کی حالت ملاحظہ فرماتے ان کی تکالیف دور کرتے اور فتح مند ہو کر ہمیشہ قیدیوں کو آزاد کردیتے۔ اسلامی افواج کو رزم بزم دونوں موقعوں پر ہدایات تھیں کہ وہ کسی قوم سے اگر لڑائی کرے تو غرض خوشنودی الٰہی ہو۔ اپنی ذات شامل نہ ہو۔ اسلامی اخلاق و کردار ہر حالت میں باقی رہیں شراب کی لعنت سے محفوظ رہیں۔ ان کی پیشانیاں جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے خمیدہ رہیں یہ نہ ہو کہ شراب کی لعنت کا شکار ہو کر فریضہ عبادت ترک کیا جائے ایک جماعت کفار کا مقابلہ کرے تو دوسری فریضہ عبادات ادا کرے جب یہ فارغ ہوں تو دوسری جماعت مصروف جنگ ہوجائے۔ ہر سپاہی اور ہر قائد فوج اسلامی کردار کا بہترین نمونہ پیش کرے اور یہ بات پیش نظر رہے کہ ہم جن رقبہ جات کو دشمن سے حاصل کریں گے وہاں حدود الٰہیہ جاری کریں گے۔ سیرت نبویہ پر اولاً خود عامل ہوں گے بعد میں دوسروں سے عمل کرائیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی افواج جہاں گئیں انہوں نے سیرت نبویہ کا پرچم بلند کیا اور ہر ایک گوشے میں اسلامی احکام جاری کئے۔ الغرض سیرت نبویہ میدان کارزار میں بھی اپنی مثالی حیثیت پیش کرتی ہے۔ کتاب و سنت کے احکام کی ترویج ان کا اولین فریضہ حیات تھا جب تک مسلمان سیرت نبویہ پر عامل رہے کامیابی و نصرت ہمارے قدم چومتی رہی۔ اگر ہم تعمیر نو کے خواہاں ہیں اور وہ کتاب سنت اور سیرت نبویہ کے نقوش پر چلائی گئی تو بلاشبہ فوزو فلاح کی ضامن ہوگی اور اگر سیرت نبویہ سے ہٹ کر آغاز کار ہوا تو اس کا انجام خسران و بربادی ہوگا۔ آخر میں خدائے برتر سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سب کو سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ہماری زندگی کا ہر شعبہ حضور کی سیرت طیبہ کے مطابق ہو ضرورت ہے عصر حاضر میں سیرت طیبہ کے تمام حصص سے مسلمان واقف ہوں ہمارے مدارس و مکاتب اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور سیرت شریفہ تاریخ اسلام کو لازمی مضمون قرار دیاجائے تاکہ ہمارے طلباء کے اذہان و دماغ سیرت مقدسہ کے تمام عناوین سے باخبر ہوسکیں۔ |
0 comments: