یوم حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ11 ربیع ثانی
از قلم
شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ
شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ
حضرت سیدنا غوث الاعظم حضرت محبوب سبحانی غوث صمدانی حسنی حسینی سید ہیں روئے زمین پر کوئی ملک ایسا نہیں جہاں آپ کے مرید موجود نہ ہوں۔ آپ کی پیدائش سے پہلے اکثر بزرگان دین نے لوگوں کو غوث الاعظم کی ولادت کی بشارت سنا کر مشتاق زیارت بنا دیا تھا۔
1۔ شیخ ابو محمد بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے رمضان المبارک 438ہجری میں وعظ کرتے ہوئے ایک جلسہ میں ارشاد فرمایا: وہ دن دور نہیں جب کہ عراق میں ایک غوث اعظم پیدا ہوگاجس کا اسم گرامی عبدالقادر اور لقب محی الدین ہوگا اور وہ اپنے کارناموں سے انقلاب عظیم پیدا کرے گا۔ (اذکار الاسرار)
2۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ مراقبہ سے سر اٹھا کر فرمایا پانچویں صدی میں گیلان میں ایک غوث الاعظم پیدا ہوگا جس کا نام نامی عبدالقادر اور لقب محی الدین ہوگا۔ سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ کے والد ماجد سید ابو صالح بھی ایک ولی کامل تھے۔ آپ کا لقب جنگی دوست تھا۔ حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ بھی عابدہ اور زاہدہ خاتون تھیں۔ اور انہیں تقرب الی اللہ حاصل تھا۔ ان ہر دو کے (یعنی غوث پاک کے والدین) عقد نکاح کے حالات ہر طرح ایمان افروز ہیں۔
دریا کے کنارے
روایت ہے کہ سیّد ابو صالح دریا کے کنارے عبادت میں مشغول تھے۔ تین دن سے کھانا نہیں کھایا تھا ناگہانی ایک سیب دریامیں بہتا نظر آیا، بسم اللہ کہہ کر اٹھایا اور کھالیا۔ آپ کے ضمیر نے اس عمل کو خیانت پر مبنی سمجھا چنانچہ مالک سیب کی تلاش اور حصول اجازت کی خاطر دریا کے کنارے کنارے سفر کرکے ایک وسیع باغ کا پتہ چلایا۔ جہاں ایک تناور درخت تھا۔ اس کی شاخوں سے پکے ہوئے سیب لگے تھے۔ باغ کے مالک حضرت سید عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ رئیس جیلان کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور درخواست گار معافی ہوئے، چونکہ حضرت شیخ ان کی سعادت اور منزلت سے مطلع ہوگئے تھے اس لئے آپ کے جی میں آیا کہ انہیں اپنے پاس رکھ کر قرب الٰہی کی اعلیٰ منازل طے کراؤں۔ چنانچہ فرمادیا کہ دس سال تک اس باغ کی رکھوالی کرو تب بلا اجازت سیب کھانے پر معافی کے بارے میں سوچوں گا۔ حضرت ابوصالح نے رضاء الٰہی کی خاطر یہ شرط فوراً منظور کرلی اور دس سال تک حضرت صومعی کی خدمت میں رہ کر اعلیٰ مدارج سلوک طے کرتے رہے پھر معافی چاہی تو دوسال کا اضافہ فرمادیا گیا۔ آپ نے یہ بارہ سال بڑی خوش خرمی کے ساتھ گزاردیئے کہ آپ خود ایک مرد کامل اور رہبر صحیح کے متلاشی تھے۔ بارہ سال گزرنے پر جناب عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ نے خود طلب کرکے ارشاد فرمایا کہ ماشاء اللہ تم آزمائش کی کسوٹی پر پورے اترے۔ اب ایک خدمت اور باقی ہے وہ یہ کہ میری ایک لڑکی ہے جو پاؤں سے لنگڑی، ہاتھوں سے لنجی، کانوں سے بہری اور آنکھوں سے اندھی ہے۔ اس بیچاری کو تم اپنے نکاح میں قبول کرلو۔ چنانچہ حضرت ابوصالح رحمۃ اللہ علیہ نے بلا اجازت سیب کھالینے کی معافی کی خاطر یہ بات بھی بخوشی منظور کرلی اور اس طرح سیدہ فاطمہ بنت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا نکاح ہوگیا۔ شادی کے بعد بیوی کو دیکھا کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ اعضاء صحیح اور درست ہیں۔ دل میں وسوسہ آیا کہ مبادایہ کوئی اور لڑکی ہو۔ فوراً پریشان حال باہر نکل آئے اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنی فراست باطنی سے سب کچھ جان گئے۔ فرمایا اے بیٹے میں نے جو صفات اپنی لڑکی کی تم سے بیان کی تھیں وہ سب صحیح ہیں۔ آج تک اس نے کسی نامحرم پر نظر نہیں ڈالی اس لئے اندھی ہے، نہ خلاف حق کوئی بات سنی ہے اس لئے بہری ہے، نہ خلاف شرع کوئی کام کیا اس لئے لنگڑی و لنجی ہے۔ شیخ ابو صالح سب کچھ سمجھ گئے اور ان کے دل میں اپنی بیوی کے لئے کمال درجہ محبت اور عزت پیدا ہوگئی۔ اس طرح ان دونوں پاکباز ہستیوں کی رفاقت حیات کا آغاز ہوا۔
روایت ہے کہ سیّد ابو صالح دریا کے کنارے عبادت میں مشغول تھے۔ تین دن سے کھانا نہیں کھایا تھا ناگہانی ایک سیب دریامیں بہتا نظر آیا، بسم اللہ کہہ کر اٹھایا اور کھالیا۔ آپ کے ضمیر نے اس عمل کو خیانت پر مبنی سمجھا چنانچہ مالک سیب کی تلاش اور حصول اجازت کی خاطر دریا کے کنارے کنارے سفر کرکے ایک وسیع باغ کا پتہ چلایا۔ جہاں ایک تناور درخت تھا۔ اس کی شاخوں سے پکے ہوئے سیب لگے تھے۔ باغ کے مالک حضرت سید عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ رئیس جیلان کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور درخواست گار معافی ہوئے، چونکہ حضرت شیخ ان کی سعادت اور منزلت سے مطلع ہوگئے تھے اس لئے آپ کے جی میں آیا کہ انہیں اپنے پاس رکھ کر قرب الٰہی کی اعلیٰ منازل طے کراؤں۔ چنانچہ فرمادیا کہ دس سال تک اس باغ کی رکھوالی کرو تب بلا اجازت سیب کھانے پر معافی کے بارے میں سوچوں گا۔ حضرت ابوصالح نے رضاء الٰہی کی خاطر یہ شرط فوراً منظور کرلی اور دس سال تک حضرت صومعی کی خدمت میں رہ کر اعلیٰ مدارج سلوک طے کرتے رہے پھر معافی چاہی تو دوسال کا اضافہ فرمادیا گیا۔ آپ نے یہ بارہ سال بڑی خوش خرمی کے ساتھ گزاردیئے کہ آپ خود ایک مرد کامل اور رہبر صحیح کے متلاشی تھے۔ بارہ سال گزرنے پر جناب عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ نے خود طلب کرکے ارشاد فرمایا کہ ماشاء اللہ تم آزمائش کی کسوٹی پر پورے اترے۔ اب ایک خدمت اور باقی ہے وہ یہ کہ میری ایک لڑکی ہے جو پاؤں سے لنگڑی، ہاتھوں سے لنجی، کانوں سے بہری اور آنکھوں سے اندھی ہے۔ اس بیچاری کو تم اپنے نکاح میں قبول کرلو۔ چنانچہ حضرت ابوصالح رحمۃ اللہ علیہ نے بلا اجازت سیب کھالینے کی معافی کی خاطر یہ بات بھی بخوشی منظور کرلی اور اس طرح سیدہ فاطمہ بنت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا نکاح ہوگیا۔ شادی کے بعد بیوی کو دیکھا کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ اعضاء صحیح اور درست ہیں۔ دل میں وسوسہ آیا کہ مبادایہ کوئی اور لڑکی ہو۔ فوراً پریشان حال باہر نکل آئے اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنی فراست باطنی سے سب کچھ جان گئے۔ فرمایا اے بیٹے میں نے جو صفات اپنی لڑکی کی تم سے بیان کی تھیں وہ سب صحیح ہیں۔ آج تک اس نے کسی نامحرم پر نظر نہیں ڈالی اس لئے اندھی ہے، نہ خلاف حق کوئی بات سنی ہے اس لئے بہری ہے، نہ خلاف شرع کوئی کام کیا اس لئے لنگڑی و لنجی ہے۔ شیخ ابو صالح سب کچھ سمجھ گئے اور ان کے دل میں اپنی بیوی کے لئے کمال درجہ محبت اور عزت پیدا ہوگئی۔ اس طرح ان دونوں پاکباز ہستیوں کی رفاقت حیات کا آغاز ہوا۔
3۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ نے اپنے وصال کے وقت اپنا سجادہ ایک مرید خاص کے سپرد کرکے وصیت کی کہ اس کو بحفاظت تمام رکھنا، اگر زندگی وفا کرے تو اصالتاً حاضر ہو کر یہ سجادہ سید عبدالقادر جیلانی کے سپرد کرنا، اگر زندگی وفا نہ کرے تو اپنے کسی معتمد مرید کو دے کر ہدایت کرنا کہ وہ حق دار کو حق پہنچا دے چنانچہ شوال 497ھ میں ایک عارف باللہ نے حاضر خدمت ہو کر یہ سجادہ آپ کے سپرد کیا۔
پیدائش
مناقب غوثیہ میں لکھا ہے کہ آپ کے والد محترم نے پیدائش کی رات کو خواب میں دیکھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ کرام و اولیائے کبار تشریف فرما ہیں۔ ان کے انوار و تجلیات سے تمام گھر بقعۂ نور بنا ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا: ابو صالح تمہیں بشارت ہو کہ آج اللہ تعالیٰ تمہیں وہ جلیل القدر فرزند عطا کرنے والا ہے جو غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ اور سرتاج اولیاء ہوگا۔ آپ یہ مبارک خواب دیکھ اٹھے اور سجدۂ شکربجالائے۔
مناقب غوثیہ میں لکھا ہے کہ آپ کے والد محترم نے پیدائش کی رات کو خواب میں دیکھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ کرام و اولیائے کبار تشریف فرما ہیں۔ ان کے انوار و تجلیات سے تمام گھر بقعۂ نور بنا ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا: ابو صالح تمہیں بشارت ہو کہ آج اللہ تعالیٰ تمہیں وہ جلیل القدر فرزند عطا کرنے والا ہے جو غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ اور سرتاج اولیاء ہوگا۔ آپ یہ مبارک خواب دیکھ اٹھے اور سجدۂ شکربجالائے۔
حضور سیدنا غوث الاعظم یکم رمضان المبارک 471ہجری کو کتم عدم سے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے۔ کہتے ہیں اس رات جیلان میں جتنے لڑکے پیدا ہوئے آگے چل کر سب کے سب ولی اللہ ہوئے۔ رمضان کے مہینہ میں آپ اپنی والدہ محترمہ کا دودھ نہ پیتے تھے گویا یہ مادرزاد ولی روزہ دار پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
ابھی اچھی طرح ہوش بھی سنبھالنے نہ پائے تھے کہ سایۂ پدری سے محروم ہوگئے۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد آپ کی تربیت سید عبداللہ صومعی نے کی۔ ماں کی دیکھا دیکھی نماز بھی پڑھنے لگے بے حد مؤدب خلیق واقع ہوئے تھے۔ بچپن ہی میں آپ کو حق گوئی، حق نوازی، راستبازی ایثار و خلوص، جدوجہد غربا پروری، صبر توکل، زہد و تواضع کی تعلیم و تربیت دی گئی تھی۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
ابھی اچھی طرح ہوش بھی سنبھالنے نہ پائے تھے کہ سایۂ پدری سے محروم ہوگئے۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد آپ کی تربیت سید عبداللہ صومعی نے کی۔ ماں کی دیکھا دیکھی نماز بھی پڑھنے لگے بے حد مؤدب خلیق واقع ہوئے تھے۔ بچپن ہی میں آپ کو حق گوئی، حق نوازی، راستبازی ایثار و خلوص، جدوجہد غربا پروری، صبر توکل، زہد و تواضع کی تعلیم و تربیت دی گئی تھی۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
جب آپ تحصیل علم کے لئے بغداد جانے لگے تو والدہ محترمہ نے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی ’’براستی باش جمیع احوال‘‘ اور بطور زاد راہ چالیس دینار بھی بغل میں سی دیئے۔ ہمدان سے آگے بڑھے تو قافلہ کو ڈاکوؤں نے روک لیا اور لوٹ مار شروع کردی۔ اتفاقاً ایک ڈاکو نے آپ سے پوچھا لڑکے تیرے پاس کیا ہے۔ آپ نے فرمایا چالیس دینار، پوچھا کہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا بغل میں سیئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں دوسرا ڈاکو آگیا اس کے پوچھنے پر بھی وہی جواب دیا، انہوں نے سردار کوجا کر خبر کردی تو اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو فوراً حاضر کیا جائے۔ جب آپ حاضر ہوئے تو کہا ’’باخودچہ داری‘‘ جواب دیا، چہل دینار۔ سردار نے پوچھا، کجا است؟ درجامۂ من دوختہ است، زیر بغل من۔ سردار کے حکم پر تلاشی لی گئی تو دینار برآمد ہوگئے۔ ڈاکو اور ان کا سردار حیران ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کچھ دیر تک تحیر کا عالم طاری رہا، آپ کی امانت و صداقت سے متاثر ہو کر تمام ڈاکوؤں نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ و بیعت کی اور ان کا شمار اولیاء کاملین میں ہوا۔
تمام علوم عالیہ اسلامیہ فقہ تفسیر اصول وغیرہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مجاہدات و ریاضات کا دور شروع ہوگیا اور تقریباً 25 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد 521ھ میں درس و تدریس وعظ و نصائح اور پندو موعظت کا کام شروع کردیا اور پانچ برس کے اندر اندر ہی عالمگیر شہرت حاصل کرلی۔
تمام علوم عالیہ اسلامیہ فقہ تفسیر اصول وغیرہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مجاہدات و ریاضات کا دور شروع ہوگیا اور تقریباً 25 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد 521ھ میں درس و تدریس وعظ و نصائح اور پندو موعظت کا کام شروع کردیا اور پانچ برس کے اندر اندر ہی عالمگیر شہرت حاصل کرلی۔
آپ کا وعظ صرف مسلمانوں کے لئے ہی مسحور کن نہیں ہوتا تھا بلکہ غیر مسلم بھی اس سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ منعان نامی راہب نے مجلس وعظ ہی میں مجمع عام کے رو برو آپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا۔
آپ کا مشہور مقولہ قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلیٰ رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہِ
بہجتہ الاسرار کی روایت کے مطابق تقریر کرتے ہوئے یکا یک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔ اس وقت جو مشائخ وہاں موجود تھے انہوں نے بھی سر جھکا دیئے۔ نیز عراق و عجم و عرب کے تمام اولیاء اللہ نے اپنی اپنی گردنیں جھکادیں۔ سب سے پہلے حضرت شیخ علی نے منبر کے پاس حاضر ہو کر آپ کا قدم اپنی گردن پر رکھا، اس کے بعد تمام حاضرین مجلس نے بھی اپنی اپنی گردنیں خم کردیں۔ شیخ ابو سعید قیلوی فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ اس وقت آپ کی زبان مبارک سے ارشاد ہوا جب کہ باری تعالیٰ اعزاسمہ نے آپ کے قلب پر اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے دست مبارک پر تجلی فرمائی تھی۔ فرش سے عرش تک ملائکہ کی صفیں آراستہ دکھائی دے رہی تھیں۔
بہجتہ الاسرار کی روایت کے مطابق تقریر کرتے ہوئے یکا یک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔ اس وقت جو مشائخ وہاں موجود تھے انہوں نے بھی سر جھکا دیئے۔ نیز عراق و عجم و عرب کے تمام اولیاء اللہ نے اپنی اپنی گردنیں جھکادیں۔ سب سے پہلے حضرت شیخ علی نے منبر کے پاس حاضر ہو کر آپ کا قدم اپنی گردن پر رکھا، اس کے بعد تمام حاضرین مجلس نے بھی اپنی اپنی گردنیں خم کردیں۔ شیخ ابو سعید قیلوی فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ اس وقت آپ کی زبان مبارک سے ارشاد ہوا جب کہ باری تعالیٰ اعزاسمہ نے آپ کے قلب پر اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے دست مبارک پر تجلی فرمائی تھی۔ فرش سے عرش تک ملائکہ کی صفیں آراستہ دکھائی دے رہی تھیں۔
حضرت غوث علی شاہ قلندر پانی پتی فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں اولیاء اللہ گزرے ہیں لیکن وہ سب کے سب عاشق الٰہی تھے۔ ان سب میں دو شخص ایسے گزرے ہیں جو محبوب الٰہی ہیں ان میں سے ایک حضرت سبحانی سید عبدالقادر جیلانی ہیں اور دوسرے خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی دہلوی ہیں۔ ان کے علاوہ اور کسی کو یہ شان محبوبیت عطا نہیں ہوئی۔
اخلاقی زندگی
حضور فرمایا کرتے تھے مجھے دو باتیں بہت مرغوب ہیں۔ ایک حسن خلق اور دوسرے بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ اگر پوری دنیا کی دولت میرے ہاتھ آجائے تو میں اسے بھوکوں کو کھلانے کے لئے وقف کردوں اور سب سے حسن اخلاق سے پیش آؤں۔ آپ کے دل میں غریب پروری اور یتیم نوازی کا ایک جذبہ اور ایک تڑپ موجزن تھی، روزانہ ہزاروں کی آمدنی تھی۔
حضور فرمایا کرتے تھے مجھے دو باتیں بہت مرغوب ہیں۔ ایک حسن خلق اور دوسرے بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ اگر پوری دنیا کی دولت میرے ہاتھ آجائے تو میں اسے بھوکوں کو کھلانے کے لئے وقف کردوں اور سب سے حسن اخلاق سے پیش آؤں۔ آپ کے دل میں غریب پروری اور یتیم نوازی کا ایک جذبہ اور ایک تڑپ موجزن تھی، روزانہ ہزاروں کی آمدنی تھی۔
لیکن اِدھر آئی اُدھر آپ نے مسکینوں، یتیموں، غریبوں، ضعیفوں میں تقسیم کردی۔ کوئی سوالی کبھی دروازے سے خالی نہ پھرا۔ چور چوری کے ارادے سے آیا اور خالی ہاتھ جاتے ہوئے دیکھا تو اسے قطب بنا کر بھیجا۔
حلقہ بگوشوں اور حاضر باشوں میں سے جو شخص بھی بیمار ہو اس کی عیادت کو تشریف لے جاتے۔ اپنے حلقہ بگوشوں میں تحفہ تحائف بھی تقسیم کرتے، ہدیہ قبول کرلیتے، اس میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے منکسرالمزاج اور رقیق القلب واقع ہوئے تھے۔ گھر کا چھوٹا موٹا کام خود ہی کرلیا کرتے۔
حضور غوث پاک خاصان خدا کے سرخیل اور امام اور صبر و استقامت کے پہاڑ تھے۔ ابن کثیر اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: ’’آپ خلفاء، وزراء، سلاطین، قضاۃ، خواص اور عوام سب کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرماتے اور بڑی صفائی اور جرأت کے ساتھ ان کو بھرے مجمع میں اور برسر منبر ٹوک دیتے جو کسی ظالم کو حاکم بناتا، اس پر اعتراض کرتے اور خدا کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کرتے‘‘۔
آپ کے مواعظ سے مردہ دل زندگی حاصل کرتے۔ علامہ ابن تیمیہ کا قول ہے کہ حضور غوث پاک کی کرامات تو اتر کو پہنچ گئی ہیں۔

0 comments: