سیدنا صدیق اکبر کی شخصیت کا اجمالی خاکہ



حضرت سیدنا صدیق اکبر کی شخصیت کا اجمالی خاکہ
شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل ضیائی
اسم گرامی:
آپ کا نام عبداللہ، ابو بکر کنیت، عتیق ،صدیق لقب ہے۔
نسب:
ابو بکر بن ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعید بن تیم بن مرّہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نذار بن معد بن عدنان۔
آپ کے والد ماجد کی کنیت ابوقحافہ، نام عثمان تھا جبکہ والدہ ماجدہ کی کنیت ام الخیر، نام سلمیٰ ہے اور حضرت سلمیٰ ابوقحافہ عثمان رضی اللہ عنہ کی چچا زاد تھیں۔
عتیق وصدیق لقب کی وجہ:
عتیق کے معنی حسن و جمال و آزادی کے ہیں چونکہ آپ حسین و جمیل تھے۔ اس لئے آپ کا لقب عتیق پڑگیا یا اس وجہ سے کہ آپ بُری عادتوں سے عاری تھے اس لئے عتیق کہلائے یا اس کے معنی شریف کے ہیں چونکہ آپ میں شرافت عالیہ پائی جاتی تھیں اس لئے عتیق کہلائے کہ ایک بار آپ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انت عتیق من النّار صدیق صدق سے نکلا ہے جس کے معنی سچائی کے ہیں چونکہ آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے اس لئے آپ کو صدیق کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے یا اس وجہ سے کہ معراج شریف کی سب سے پہلے آپ تصدیق فرمائی اس وقت سے صدیق کہلائے۔
آپ کی اولاد و ازواج:
آپ کی چار ازواج تھیں۔ قتیلہ، امّ رومان ، اسماء بنت عمیس اور حبیبہ بنت خارجہ رضی اللہ عنہن۔
اولاد:
تین لڑکے ، تین لڑکیاں۔ عبدالرحمن، عبداللہ ، محمد، اسماء ، عائشہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہم۔
قتیلہ مشرکہ تھی، ان سے اسماء بنت ابی بکر، عبداللہ اور امّ رومان سے عبدالرّحمن ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما۔ اور اسماء بنت عمیس سے محمد اور حبیبہ بنت خارجہ سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا۔
امِّ رومان کا وصال 6ھ میں ہوا اس کے بعد اسماء بنت عمیس سابقہ اہلیہ جعفر طیار برادر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعد شہادت حضرت جعفرسے 8ھ میں نکاح فرمایا۔
حبیبہ بنت خارجہ سے ان کے بعد نکاح کیا ان کے بطن سے امّ کلثوم بعد وصال سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیدا ہوئیں۔ آپ کے وصال کے وقت حبیبہ بنت خارجہ حمل سے تھیں۔
سب سے بڑی صاحبزادی اسماء ہیں جن کو ذات النطاقین کا لقب ملا۔ حضرت اسماء نے بھی بہت تکلیف سے زندگی گذاری ان کا عقد حضرت زبیر بن عوّام سے ہوا۔ ان کے صاحبزادے عبداللہ ہیں جومہاجرین کی مدینہ شریف آمد کے بعد اوّل المولد المہاجرین ہیں اور کہ صحابی ہیں۔
عبدالرحمٰن سب سے بڑے صاحبزادے ہیں جنگ بدر میں قریش مکہ کی جانب سے لڑنے آئے تھے۔ بعد میں اسلام لائے، آپ نے اپنے والد حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ دوران جنگ کئی بار میرے زد میں آئے لیکن میں نے نظر انداز کیا۔ حضرت ابوبکر کا غیرت ایمانی دیکھیں! آپ نے فرمایا کہ اگر تو میری زد میں ایک بار بھی آتا تو میں نہ چھوڑتا۔ حضرت عبدالرحمن کا 53ھ میں وصال ہوا۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر غزوہ طائف میں شریک ہوئے اور زخمی ہوگئے اور اسی میں 11ھ کو وصال ہوگیا۔ دو صاحبزادوں سے آپ کا نسب چلا اور حضرت عبداللہ سے نہ چلا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ ساتویں پشت میں حضرت کلاب میں جاکر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب نامہ سے مل جاتاہے۔
شرف صحابیت:
حضرت ابوبکر صدیق ان برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جن کی چار پشتوں کو صحابیت کا شرف حاصل ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر ان کے والد ماجد حضرت عثمان،عبدالرحمن بن ابو بکر اور ان کے صاحبزادے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ماجد فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور آپ کے وصال کے بعد بھی زندہ رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 14ھ میں وصال فرمایا۔
پیدائش:
واقعہ فیل کے دو سال، چار ماہ بعد 573ء میں پیدا ہوئے۔ یعنی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دو سال دو ماہ بعد آپ کی ولادت مکہ شریف میں ہوئی وہیں پرورش پائی اور زندگی کے پچاس سال وہیں گزارے۔ سوائے تجارت کے مکہ شریف سے کبھی باہر نہ نکلے۔
حلیہ مبارک:
سیدنا ابوبکر صدیق کا رنگ گورا، بلند پیشانی، آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں، بدن چھریرا، رخسار اندر کو دبے ہوئے، آپ آنکھیں نیچی رکھا کرتے، آپ کی داڑھی گھنی اور سفید، مہندی لگایا کرتے ۔
مرتبہ :
آپ زمانہ جاہلیت میں بھی معزز اور قریش کے سرداروں میں تھے۔ آپ بہت بڑے تاجر تھے اور معاشرے میں ذکی، فہم شعار تھے، صدق و عفت میں شہرت تھی۔ قبل اعلان نبوت آپ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم دوست وبہی خواہ تھے۔ ورقہ بن نوفل اور دیگر راہبوں سے سرکار دوعالم میں علامت نبوت کا علم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہلے سے ہی ہوگیا تھا، اعلان نبوت کے منتظر تھے کہ بعد اعلان فوراً ایمان لائیں، چنانچہ ایسا ہی کیا جوں ہی نبی مبعوث نے اعلان کیا آگے بڑھتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ کسی کی مخالفت کو خاطر میں نہ لائے اور ہر طرح کی تکالیف کو جھیلا، برداشت کیا۔
کفار قریش کی ایذا رسانی: کفار مسلمان غلاموں کو تو طرح طرح کی ایذا دیا ہی کرتے تھے، مگر چونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہی اور بہت سے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی تحریک سے بھی اسلام لائے تھے توقریش نے حضرت صدیق کو بھی تکالیف دینا شروع کردیں تھیں۔
ہجرت حبشہ:
حضرت ابوبکر صدیق نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اور آپ یمن کے راستے سے حبشہ کی جانب روانہ ہوئے، برک الغماد پہنچے ہی تھے (یہ مکہ سے یمن کی جانب پانچ دن کی مسافت پر ہے) کہ ابن دغنہ یعنی حارث بن زید قارہ قبیلہ کے سردار سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا اے ابو بکر! کہاں؟ آپ نے جواب دیا کہ میری قوم مجھے رہنے نہیں دیتی۔ میں چاہتا ہوں کہ وطن چھوڑ کر کہیں الگ عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، تم جیسا نہ نکلے، نہ نکالا جاسکتا ہے، اس کے اصرار پر واپس آئے۔
ابن دغنہ نے سردار ان قریش سے بات کی اور آپ دوبارہ مکہ میں رہنے لگے۔ عبادت الٰہی ، تلاوت قرآن پاک کیا کرتے، بالآخر اعلانیہ عبادت و تلاوت کی وجہ سے پھر تکالیف شروع ہوگئیں ۔
ہجرت مدینہ:
ابن دغنہ نے آپ کو پناہ دی تھی۔ قریش کی شکایات پر اسے واپس لے لیا، اب آپ پر دوبارہ ظلم وستم شروع ہوگیا تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ شریف کی طرف ہجرت چاہی آپ نے فرمایا اے ابو بکر جلدی نہ کیجئے، صبر کیجئے۔ کیاعجب کہ اللہ تعالیٰ کسی اور بندہ کو آپ کے ساتھ کردے اور وہ آپ کے سفر کا ساتھی ہوجائے۔آپ نے یہ جواب سن کر سفر کا ارادہ ترک کر دیا اور مکہ میں رہ کر تکالیف برداشت کرتے رہے، یہاں تک کہ سرکار مدینہ علیہ الصلوٰۃوالسلام کو ہجرت کی اجازت من جانب اللہ ملی تو آپ کے ہمرا ہی میں سفرکیا۔ حضرت ابوبکر نے پہلے ہی دواونٹنیاں تیار کر رکھی تھیں۔ ایک اونٹنی سرکار کو پیش کی لیکن سرکار عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت دی، سفر شروع کردیا، غار ثور میں تین دن قیام کیا۔ پھر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوئے پورا راستہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے۔ حتی کہ مدینہ پہنچ گئے۔ جہاں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں اور مدینہ شریف کی بچیوں نے ان اشعار کے ساتھ استقبال کیا:
طلع البدر علینا۔۔۔۔۔من ثنیات الوادع
وجب الشکر علینا ۔۔۔۔۔ مادعاﷲ داع
ایھاالمبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامر لمطاع
نحن جوار من بنی نجار ۔۔۔۔۔ یاحبذا محمد من جار
مدینہ شریف پہنچ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے اور غزوۂ بدر اسلام کی پہلی جنگ سے لے کر آخری جنگ غزوۂ تبوک تک جنگوں میں شریک رہے۔ 9ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امیر حج بنایا اور خطبہ حج آپ ہی نے پڑھا۔
11ھ میں 12 ربیع الاول پیر 8 جون 632ء کو جہان فانی سے رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ فرمایا۔ اب مہاجر و انصار میں جان نشینی کے مسئلہ پر کچھ اضطراب تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کرلی اور تمام مہاجرین اور انصار نے بھی بیعت کرلی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بروایت حاشیہ بخاری شریف تین روز کے بعد بیعت کرلی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہایت دانش مندی سے الجھن کو سدھارا اور خلیفہ بننے کے بعد طرح طرح کے پیش آمدہ مسائل کو نہایت حسن و خوبی سے نمٹایا اور جو فتنے اٹھے ان کی سرکوبی کی۔ جمع قرآن کی ابتداء بمشورہ خلیفہ دوئم آپ ہی نے کی۔ آپ 13ھ جمادی الآخر میں دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رحلت سے قبل اکابرین صحابہ کے مشورے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔
فضائل و کارنامے:
آپ انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل البشر ہیں۔ آپ سے 142 احادیث مروی ہیں۔ آپ کی فضیلت میں بے شمار احادیث مبارکہ وارد ہیں۔ آپ نے دو سال تین ماہ خلافت ادا فرما کر بے شمار عظیم کارنامے انجام دیئے، عدل و انصاف آپ کا معمول تھا، امت مسلمہ کو عظیم فتنہ و فساد سے نجات دی، مانعین زکوٰۃ کا قلع قمع کیا، شعائر اسلام کو زندہ کیا، جھوٹے مدعیانِ نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میں ہر خل (دوست) سے بری ہوں، اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا، بلاشبہ تمہارے صاحب (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔
2۔مجھے کسی کے مال نے نفع نہیں دیا جتنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال نے نفع دیا۔
3۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہیں، ہر اولین اور آخرین سے سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔ اے علی! جب تک وہ زندہ ہیں کسی کو خبر نہ دینا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل سے کتب بھر ی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے دامن سے وابستہ رکھے اور ان کے طفیل ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین
سیرت نبویہ میں سیاسی بصیرت کے پہلو


سیرت نبویہ میں سیاسی بصیرت کے پہلو
از قلم
علامہ مفتی محمد حسن حقانی اشرفی علیہ الرحمہ
’’سیاست‘‘ عربی کا لفظ ہے۔ اسی سے ’’سائس‘‘ ہے جو عام بول چال میں سائیس ہوگیا ہے۔ یہ اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو بہتر حکمت عملی، حسن تدبر اور اصابت فکر و رائے جیسی خصوصیات کا حامل ہو۔ یعنی گھوڑے کا مہم جوئی کے لئے چاق و چوبند اور تیار رہنا کبھی دلکی کبھی گھڑ دوڑ کبھی اسپ تازی وغیرہ کی خصوصیات پیدا کرنے کے لئے سائیس اس جانور کا مربی، راہ نما اور بہتر تدبیر کرنے والا ہوتا ہے۔ عربی میں ’’ساس یسوس‘‘ بمعنی اچھی حکمت عملی اختیار کرنے کے ہوتا ہے۔
اس بنیاد پر سیاست اپنی اصل کے اعتبار سے حسن تدبر، بہتر حکمت عملی اور فکری بصیرت کا نام ہے۔ اور دین اسلام میں اس کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اگر چہ یونانی فلاسفر اور سیاستدان حتیٰ کہ سائنسدان بہت مشہور ہیں اور حکمت یونان ضرب المثل ہے مگر شومیٔ قسمت کہ وہ لادین اور ملحدانہ ہوتی ہے۔ ’’فیلسوف‘‘ (یونانی) حکمت کے ’’رسیا‘‘ کو کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے یونانی اور اسلامی حکمت میں اس طرح فرق کیا ہے:
چوں بخواہی حکمت یونانیاں
حکمت ایمانیاں ہم بخواں
یعنی جہاں یونانی حکمت و سیاست کی چمک تیری آنکھوں کو خیرہ کررہی ہو وہاں تجھے ایمانی سیاست و حکمت کو بھی اپنے مطالعہ میں لانا چاہیے۔
سیاست دین اسلام ہی کا ایک اہم شعبہ اور مضمون ہے۔ کیونکہ اسلام جو ہمہ گیر، ہمہ جہت بلکہ عالمگیر دین ہے زندگی کا کوئی شعبہ اس کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ میں سیاست کے خدوخال ’’حسن تدبر، بہتر حکمت عملی اور فکری بصیرت‘‘ کے نام سے موسوم ہیں۔ جس طرح معاشیات و اقتصادیات، سماجیات و اخلاقیات، معاملات و عبادات اور ایمانیات و اعتقادیات اسلام کے شجر آبیار سے پھوٹے ہیں اسی طرح سیاست بھی دین اسلام کی ایک شاخ ہے اور دین اسلام کا حصہ ہے۔ مگر مروجہ سیاست جو جھوٹ، مکاری، عیاری، مفاد پرستی حتیٰ کہ اقتدار پرستی پر منتج ہو حاشا وکلا اس کا نام سیاست رکھنا سیاست کو بدنام کرنا ہے۔ اب تو صورت حال اتنی کرب ناک اور درد ناک ہے کہ لوگ برملا چیختے چلاتے پھرتے ہیں کہ دین اور ہے سیاست اور ہے۔ یہ ان کا محض دھوکا، فریب اور اپنی مطلب برآری کا سامان ہے۔ علامہ اقبال نے اسی صورت حال کے پیش نظر کہا تھا کہ:
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
چنانچہ اس کے مظاہر آج کی مروجہ سیاست میں بہت واضح ہیں اور چنگیزیت (یعنی ظلم و جور) کو بہترین سیاست کہا جاتا ہے حالانکہ نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن تدبر، بہترین حکمت عملی اور اعلیٰ بصیرت کی آئینہ دار سیاست کی تعلیم دی ہے۔ جو کہ اسلامی سیاست کی تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔
دور نبوی اور قرون اولیٰ میں تو بے شمار مثالیں اس بہترین حکمت عملی اور اسلامی سیاست کی ملتی ہیں مگر ہمارے قریب کے زمانے میں ایک صاحب عزیمت شخصیت، نڈر اور بے خوف ذات امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جو بر حق مجدددین و ملت ہیں انہوں نے پٹنہ کانفرنس میں سیاست دینی کی ایک صورت گری یوں فرمائی کہ برصغیر ہندوستان (بشمول آج کا پاکستان اور بنگلہ دیش) میں صرف دو قومیں رہتی ہیں۔ ایک مسلم، ایک ہندو۔ دونوں کے نقطہائے نظر، دین و مذہب، تہذیب و تمدن اور ثقافت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ سیاست بصیرت اور اسلامی سیاست کا دوقومی نظریہ ہے۔ اور یہ 1898ء کی بات ہے اس سے پہلے امام فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے کر دینی سیاست کو اجاگر کیا تھا۔ پابند سلاسل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ شعب ابی طالب کے ڈھائی سال مقاطعہ کی تصویر دکھانے کیلئے کافی ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے واضح کردہ اس دو قومی نظریہ نے وہ پذیرائی حاصل کی، ایک سیاست وطنی بن گئی اور قومیت کی شناخت وطن قرار دیا گیا۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو وطن پرست اور قوم پرست کہلواتے تھے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایسوں ہی کو ’’ننگ وطن‘‘ قرار دیا تھا۔ اور میں اس کو بڑھا کر یوں کہتا ہوں کہ ایک ننگ وطن تھا اور ایک ننگ بدن ننگ وطن ننگ بدن کی دھوتی اور چرنوں پر سجدہ ریز تھا اور اسکی چوٹی کی گانٹھ میں پھنسا ہوا تھا۔ جبکہ امام اہل سنت کا نقطہ نظر شاعر مشرق کی اس آواز کا پرتو تھا کہ:
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
یوں برصغیر میں صاحب بصیرت و سیاست، صاحب علم و فکر، پیکر فہم و فراست، امام فقہ اور سیاست کی سربرآوردہ شخصیت نے دو قومی نظریہ کے ذریعہ دینی سیاست کو اجاگر کیا۔ بنارس کی سنی کانفرنس اور دیگر کانفرنسز اسی دینی سیاست کا حسین مرقع تھیں۔ یہاں ہمارے زمانہ کے دینی سیاست کے عظیم رہنما قائد اہل سنت امام انقلاب علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کی سیاسی بصیرت کو داد نہ دینا کفران نعمت ہوگا۔ وہ تقویٰ و طہارت کے اس مقام پر فائز تھے کہ تمام فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مراقبہ، توجہ الی اللہ، تہجد گزاری، ہفتہ میں دو روزے، تلاوت قرآن اور اس جیسی کئی اعلیٰ صفات کی حامل شخصیت تھے اور پھر سیاست کے کارزار میں اپنے جوہر بھی بہت کمال کے ساتھ دکھاتے تھے۔ گویا دینی سیاست اور اس کے تقدس کے وہ سچے امین تھے اور عبادت و سیاست کی دونوں صفات بیک وقت آپ کی شخصیت میں موجود تھیں بقول شاعر مشرق:
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمین بوس ہوئی قوم حجاز
سیرت نبویہ میں سیاسی بصیرت کے نمونے
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بصیرت سیاسی ہو یا فکری، نظری ہو یا عملی ہر طرح سے ہر خوبی کی جامع تھی۔ سیرت کی کتابوں کے مطالعہ سے تاریخ کے آئینہ میں جو تابناک عکس نظر آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ مکی زندگی کے ابتر حالات اور بدترمعاشرہ میں ایمان داری، صداقت اور امانت کو نہ صرف بچا کر رکھا بلکہ اجا گر کیا اور اپنے پیروکاروں کو بھی ایسا روشن کیا کہ اس کی چمک خیرہ ہوجاتی ہیں۔
سفر ہجرت: جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اس سفر میں یار غار رفیق مزار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمراہ وہمرکاب تھے کہ سفر کے راستہ میں گزرتے ہوئے ایک ایسے آدمی سے مڈبھیڑ ہوگئی جس کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بصیرت نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ اس نے جب پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ تو آپ نے پوری بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ھویھدی السبیل اس کا صاف ظاہری معنی اس آدمی کے اطمینان کے لیے یہی تھا کہ یہ راستہ دکھانے والے ہیں۔ یعنی جس طرح لمبے سفر پر کسی جاننے والے کو ہمراہ لیا جاتا ہے اسی طرح یہ بھی کوئی ہوں گے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس جملہ میں جو سیاسی بصیرت اور حسن تدبر پنہاں تھا اس کی تہ تک سائل کی نظر نہ گئی۔ اس جملہ کے جو ظاہری معنی ہیں وہ وہی ہیں جو بتائے گئے لیکن اس کے پیچھے جو دنیائے بصیرت و سیاست اور حکمت عملی پوشیدہ تھی وہ یہ تھی کہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستہ کے ہادی اور سربراہ ہیں۔ اس ذومعنی جملہ نے سیاسی بصیرت کو صداقت، ایمان داری اور جرأت کا بہترین نمونہ بنادیا۔
غزوۂ بدر: ظاہر ہے کہ یہ پہلا غزوۂ تھا۔ اور چند گنے چنے جاں نثاروں کے سامنے ایک ہزار کا جم غفیر بدر کے میدان میں کیمپ لگا چکا تھا۔ جب کفار کی تیاریوں اور آمد کا علم ہوا اور مدینہ منورہ سے ۸۰ میل دور معرکہ بپا ہونے کا منظر تصور نبوی میں آیا تو آپ نے اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہر کرتے ہوئے انصار سے رائے لی۔ کیونکہ بیعت عقبہ ثانیہ میں یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ آپ مدینہ میں آجائیں، ہم مدینہ میں آپ کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔ یہ معرکہ ۸۰ میل اور مدینہ منورہ سے باہر تھا۔ ظاہر ہے کہ معاہدہ کی رو سے مدینہ کی حدود میں مدد کا معاہدہ ہوا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استصواب کیا کہ وہ مدینہ میں تعاون کا وعدہ تھا، اب آپ لوگوں کی کیا رائے اور مشورہ ہے؟ حضرت مقداد انصاری صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کی شق کو سامنے رکھتے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استصواب کو پہچان کر جو جواب دیا وہ جہاں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت کا بھی کھلا ثبوت ہے۔ حضرت مقداد نے جو تاریخی جواب دیا اور جس سے حضور بے حد مسرور ہوئے، وہ یہ تھا کہ:
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جدھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے آپ وہاں تشریف لے چلیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بخدا ہم آپ کو وہ جواب نہ دیں گے جو جواب بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا کہ ’’آپ اور آپ کا خدا جا کر جنگ کریں، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘ ہم تو یہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جنگ کریں، ہم آپ کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اگر ہمیں آپ برک الغماد تک بھی لے جائیں تو ہم آپ کے ساتھ چلیں گے اور آپ کی معیت میں دشمن سے جنگ کریں گے۔ (کتب سیر)
میثاق مدینہ: ساری دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے ذریعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی دینی و سیاسی بصیرت اور اعلیٰ درجہ کا حسن تدبر اور بہترین حکمت عملی اختیار کی تھی کہ مکہ کے جنگجوؤں، جان لیواؤں اور معرکہ آراؤں سے بچت اور تحفظ کا سامان ضروری ہے۔ چنانچہ جہاں ایک طرف مؤاخات کا سیاسی اقدام کیا وہاں مدینہ کے آس پاس بسنے والے یہودیوں کو بھی میل ملاپ کی دعوت دی۔ تاکہ یہ اہل کتاب مکہ والوں کے ہم نوا نہ ہوجائیں کہ بہرحال مکہ کے عمائدین کے اثرات حجاز اور اس کے معاشرے پر بہت پر اثر تھے۔ اس میثاق کے نام سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ فرمایا دنیا آج تک اس پر حیران اور ششدر ہے کہ اسی دینی سیاست کے ذریعہ آپ نے مکہ کے کافروں کو سنگل آؤٹ کردیا۔ باوجود اس کے کہ ابھی مدینہ میں پورے طور پر پاؤں نہ جمے تھے مگر اس بہترین حکمت کے ذریعہ مکہ والوں کو بہت خوبصورتی سے یہ پیغام دے دیا کہ سوچ سمجھ کر مدینہ کی طرف نظر کرنا۔ ریاست کی تشکیل کے آغاز ہی سے سیاسی بصیرت کا دور بہت ہی دور رس نتائج کا حامل رہا۔ جس میں نہ دھوکہ، نہ فریب، نہ چال بلکہ بہتر حکمت کے ذریعے سیاسی بصیرت کے حوالے سے مدینہ منورہ کی سرزمین کو امن و آتشی کا گہوارہ بنانا تھا۔ اسی کا نام ’’دینی سیاست‘‘ ہے۔
صلح حدیبیہ : گو میثاق مدینہ کے ذریعہ ایک حد تک اندرونی خلفشار کی سیاست سے نجات پالی گئی تھی۔ مگر یہود بہر حال اپنی فطرت سے باز آنے والے نہیں تھے۔ سازشوں کا جال بچھاتے رہے، خفیہ ملاقاتیں دشمنوں سے کرتے رہے حتیٰ کہ ایک وقت آیا کہ ڈپلومیسی کے ماتحت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ کو سیاسی مذاکرات کیلئے بھیجا، وہ مذاکرات میں کامیاب ہوکر واپس آئے۔ ان کے آنے پر نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر مقدم کیا بلکہ جو لوگ موجود تھے انہیں حکم دیا کہ (ڈپلومیسی کے ماہر) سربراہ کا کھڑے ہو کر استقبال کرو۔ گوبہ ظاہر ایک حد تک اطمینان ہوگیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت بہت دور بین تھی۔ یہودیوں کی سازشوں سے بھری ہوئی منافرت کی کیفیت کو دبانے کیلئے وقت کی ضرورت اور سیاسی حکمت عملی کے پیش نظر اب یہودیو ں کو سنگل آؤٹ کرنے کیلئے (جوبڑے مال دار اور موثر تھے) مکہ کے کافروں سے معاہدہ صلح کرکے مکہ والوں کو یہود کا ہمنوا بنانے سے روک لیا۔ یہ اعلیٰ درجہ کی دینی سیاست تھی۔ اور الحمدللہ کہ میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت نے د شمنوں کو نہ پہلے ملنے دیا نہ اب ملنے دیا۔ ویسے تو کفر ایک ملت ہے لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیاب ڈپلومیسی تھی کہ دو بڑی قوتوں کو منتشر رکھا اور مدینہ کی اسلامی ریاست کو تقویت پہنچائی۔ اسی کا نام ’’دینی سیاست‘‘ ہے۔
غزوۂ خندق: مکہ مکرمہ کے کفار نے قبائل کے جم غفیر کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا، خوف تھا کہ کہیں مدینہ منورہ کے شہر کو تاخت و تاراج نہ کردیں۔ عورتوں اور بچوں کو یرغمال نہ بنالیں یہ قتل عام نہ کریں۔ اس جم غفیر کو روکنے والے اس مقتدر اعلیٰ نے جو منجانب اللہ حاکم وقت تھا اور مسلم ثالث تھا اس نے اپنے جانثاروں سے مشورہ مانگا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے خندق کے ذریعہ حملہ کرنے والے جم غفیر کو وہیں روک لیا۔ خندق ایک انتہائی دفاعی، عسکری اور سیاسی بصیرت کا مظہر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن تدبر اور بہتر سیاسی حکمت عملی نے کافروں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
اہم نکتہ: ایک سالار اعظم، کمانڈر اور حکمران کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ معرکہ حق و باطل میں کم خون بہے۔ غزوات نبویہ کی تعداد بیسیوں ہونے کے باوجود مٹھی بھر مسلمانوں نے بہت کم نقصان اٹھا کر نہ صرف یہود، نہ صرف مشرکین بلکہ عیسائیت کے سپر پاور کو بھی شکست سے دو چار کردیا اور اپنی دینی سیاست اور بہترین حکمت عملی کے ذریعہ اپنے جانثاروں اور فدائیوں کو تحفظ فراہم کیا۔ بلاشبہ یہ معجزانہ سیاست ہے جو دین سے نکلتی ہے اور سایہ دار درختوں کی طرح اپنی شاخوں اور پھولوں کے ذریعہ آرام و سکون کا سبب بنتی۔ تاریخ کے اوراق ایسی بے شمار مثالوں سے معمور اور بھر پور ہیں۔ نمونہ کے طور پر اسلامی سیاسی بصیرت کے خدوخال کی طرف اشارات پر اکتفاء کیا ہے ورنہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے جملہ پہلو تاہنوز بلکہ تاحیات ختم ہونے والے نہیں ہیں

0 comments:

Post a Comment | Feed

Post a Comment



SHARE..!

Bookmark and Share
 

Flag Counter

free counters

Islam The GrEat Copyright © 2009 Premium Blogger Dashboard Designed by SAER