شعبان المعظم و شب برات


شعبان المعظم و شب برا ت
از قلم
پروفیسر سید عمران احمد
شعبان المعظم اسلامی کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک کی فضلیت میں ’’شعبان المعظم کے باب‘‘ میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں ۔ شعبان کے پانچ حروف ہیں (ش،ع،ب،ا،اور ن) آپ فرماتے ہیں’’ش‘‘ سے شرف کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ع‘‘سے علو یعنی بلندی مراد ہے۔ ’’ب‘‘ سے بر یعنی نیکی مراد ہے ۔’’ا‘‘ سے الفت یعنی محبت مراد ہے۔اور’’ن‘‘ سے روشنی مراد ہے۔
آپ فرماتے ہیں یہ وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ اس مہینہ میں اپنے بندوں کو عطافرماتا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔ خطائیں معاف ہوتی ہیں گناہوں کو مٹایا جاتا ہے اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم(جو سب مخلوقات سے بہتر مخلوق ہیں) پر کثرت سے درود شریف بھیجا جاتا ہے۔
ایک دن حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو شعبان المعظم کے مہینہ میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ روزے رکھتے دیکھتا ہوں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں ،یہ مہینہ رجب المرجب اور رمضان المبارک کے درمیان میں ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کی بارگاہ میں اٹھائے جاتے ہیں تو میں چاہتاہوں کہ میرے اعمال اس وقت اٹھائے جائیں جب میں روزے سے ہوں‘‘۔ (نسائی جلد 1 ص 322)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اَلْلَھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَان وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔
(ترجمہ ) ’’اے میرے اللہ ہمیں رجب المرجب اور شعبان المعظم میں برکت دے اور ہمیں رمضان المبارک تک پہنچا‘‘۔(مشکواۃ ص 121)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان المعظم کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے تو میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا شعبان المعظم کا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں روزے رکھتے ہیں ۔فرمایا اس مہینہ میں ہر اس جان کا نام لکھا جاتا ہے جس نے اس سال مرنا ہوتا ہے تو میں پسند کرتا ہوں جب میرا وقت آئے تو میں روزے سے ہوں ‘‘(در منثور جلد 7 ص402)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ (آج) شعبان المعظم کی درمیانی نصف (یعنی پندرھویں ) رات ہے اس رات اللہ تبارک وتعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتاہے۔(الترغیب والترہیب جلد 2 ص 118)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر رات ہی بہت عبادت کرتے تھے مگر شعبان المعظم کی پندرھویں شب طویل سجدہ فرماتے تھے ۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پندرھویں شعبان المعظم کو رات کے وقت کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کرلی گئی ہے ،تو میں نے کافی دیر انتظار کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی پاؤں مبارک کی انگلی کو حرکت دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نورانی انگلی مبارک کو ہلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگارکی بارگاہ میں یہ دعا کی ’’اے میرے اللہ میں تیرے عفو کے ساتھ تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں اور تیرے قہر سے تیری رضا کے ساتھ پناہ ڈھوندتا ہوں اور میں پناہ ڈھوندتا ہوں تجھ سے ساتھ تیرے ،میں تیری صفت و ثناء بیان نہیں کرسکتا جیساکہ تو نے خود اپنی صفت و ثناء بیان فرمائی ہے ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر انور کو سجدہ سے اٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ آج رات کون سی ہے ؟ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوب جانتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شعبان المعظم کے نصف کی رات ہے(یعنی پندرھویں شعبان المعظم کی رات) بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ اس رات اپنے بندوں پر خصوصی نگاہ ِکرم فرماتاہے،بخشش مانگنے والوں کی بخشش فرماتاہے، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور کینہ پروروں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (الترغیب والترہیب جلد 2 ص 119)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ اپنی جمیع مخلوق کی طرف پندرھویں شعبان المعظم کی شب اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوتا ہے اور جمیع مخلوق کی بخشش فرماتا ہے سوائے مشرک اور کینہ پرور کے ‘‘۔ (مسند احمد جلد 2 ص 176)
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ ’’شعبان المعظم کی پندرھویں شب اللہ تبارک وتعالیٰ سوائے کینہ پروراور خود کشی کرنے والے کے سب کی بخشش فرمادیتا ہے ‘‘۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکچھ لوگ ایسے ہیں جن کی پندرھویں شعبان المعظم کی رات اللہ تبارک و تعالیٰ بخشش نہیں فرماتا ۔
(1) مشرک
(2) کینہ پرور
(3) قطع رحمی کرنے والا
(4) تکبر کے ساتھ کپڑا لٹکانے والا
(5) ماں باپ کا نا فرمان
(6) دائمی شرابی
(درمنثور جلد 7 ص403)
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرماہوئے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھایا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر پر آرام نہ فرمایا۔آپ میرے حجرہ انور سے نکلے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (جنت)البقیع میں پایا۔وہاں آپ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں اور شہداکی بخشش کے لئے استغفار فرمارہے تھے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے جب شعبان المعظم کے مہینہ کے نصف کی رات ہو یعنی پندرھویں شب تو اس رات کو عبادت کرو اور دن کو روزہ رکھو۔بے شک اللہ (تبارک و تعالیٰ)غروب آفتاب سے آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے،ہے کوئی مجھ سے بخشش چاہنے والا کہ میں اس کو بخش دوں ،ہے کوئی روزی مانگنے والا کہ میں اس کو رزق عطا فرماؤں،ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو شفا وعافیت عطافرماؤں۔ (در منثور جلد 7 ص402)
شعبان المعظم کی پندرھویں رات میں نوافل بھی پڑھنے چاہئیں اور درور شریف ،استغفار، تسبیح و تکبیر،تلاوت قرآن مجید، زیارت قبور اور توبہ بھی کرنی چاہئے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان المعظم کی پندرھویں شب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ رکعتیں نماز پڑھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 14 بار سورۃ الفاتحہ، 14 مرتبہ سورۃ الاخلاص،14 مرتبہ سورۃ الفلق ،14مرتبہ سورۃالناس اور ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھی اور ایک مرتبہ لقد جاء کم رسول من انفسکم۔۔۔۔۔۔تا آخر (التوبہ 128)کی تلاوت فرمائی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا( یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اس شخص کے لئے کیا حکم ہے جو اس طرح نماز ادا کرے؟تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس طرح نماز پڑھے جیسے تو نے مجھے دیکھا ہے تو اس کے لیے بیس حج مبرور اور بیس سال کے روزوں کا ثواب ہے اور اگر اس رات کے بعد دن میں روزے رکھے تو دو سال کے روزوں کا اس کے لئے ثواب ہے ۔ایک سال ماضی کا اور ایک سال مستقبل کا ۔
شب برات میں علماء کرام نے بھی تواضع ، انکساری اور انتہائی عجز و نیاز کے ساتھ دعا مانگنے کی تلقین کی ہے۔مشہور مفسر شارح بخاری ملا علی قاری نے بعض بزرگوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ان الفاظ میں دعا مانگا کرتے تھے۔اے اللہ ! اگر تو نے میرا نام بد بختوں کی فہرست میں لکھا ہے تو اس کو مٹا کر نیکیوں کی فہرست میں لکھدے اور اگر میرا نام نیکوں کے ساتھ درج ہے تو اس کو ثابت رکھ کیونکہ تو نے اپنی مقدس کتاب میں ارشاد فرمایا ہے ہم جس حکم کو چاہیں قائم رکھتے ہیں اور جس کو چاہیں مٹاتے ہیں اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔
تقاضہ بندگی یہ ہے کہ انسان دعا مانگنے میں کوتاہی نہ کرے اور تسلسل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دست سوال دراز کرتا رہے اور فوری طور پر دعا کی عدم قبولیت کی وجہ سے مایوس نہ ہویقینا ایسا وقت بھی آئے گا کہ اسے اپنی دعا کے پاکیزہ ثمرات دیکھنا نصیب ہوں گے چنا نچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے صحابہ کرام نے عرض کیا آقا! جلدبازی سے کیا مراد ہے؟تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ میں نے کئی مرتبہ دعا کی ہے شاید میری دعا قبول نہ ہو اور یہ سوچ کر دعا چھوڑبیٹھے(مسلم شریف)یعنی اگر قبولیت دعا میں تاخیر ہوجائے تو گبھرانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کر کے دعا مانگتے رہیں اور جو شخص پوری استقامت کے ساتھ دست طلب دراز کرتا رہے گا یقینا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔شبِ برات میں بیدار رہنا ،اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ،ذکر وفکر میں یہ رات گزارنا جہاں باعثِ ثواب ہے وہاں پندرہ شعبان المعظم کا روزہ بھی باعثِ اجر ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایاجب شعبان کی پندرھویں شب ہو تو رات کو عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو (ابن ماجہ)
اگرچہ یہ حکم استجابی ہے لیکن بزرگانِ دین نے پابندی کے ساتھ روزہ خود بھی رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی ۔علماء کرام کی تصریح کے مطابق شعبان المعظم کی اس پندرھویں شب کو لیلتہ البراۃ بھی کہتے ہیں برات کے معنی ہیں کسی کو اسکی ذمہ داری سے سبکدوش کرنا ،چونکہ گناہگار اس مقدس رات میں عبادت وریاضت کی وجہ سے گناہوں سے سبکدوش کیے جاتے ہیں اس لیے اسے لیلتہ البراۃیعنی شبِ برات کہا گیا ہے۔
ویسے تو جس قدر ممکن ہو اس شب میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے لیکن غنیتہ الطالبین میں ایک خاص نماز کا ذکر کیا گیا ہے جس کا ادا کرنا بہت ہی افضل ہے اس کے پڑھنے کا طریقہ یوں منقول ہے کہ پچاس دو گانے اس طرح ادا کریں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس بار سورہ الاخلاص پڑھیں۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس طرح نوافل ادا کرے گا اللہ تعالیٰ ستر مرتبہ اس کی جانب نظرِ رحمت فرمائے گا۔
شبِ برات میں خصوصی نوافل ادا کرنے کے کچھ اور طریقے بھی علماء کرام نے بیان فرمائے ہیں چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ایک سلام کے ساتھ چار رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورۃ الاخلاص پچاس مرتبہ پڑھے اور پندرہ کی صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کے پچاس سال کے گناہ بخش دیتا ہے یا چار رکعت اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعدسورہ التکاثر ایک مرتبہ ،قل شریف تین مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس پر موت کی سختی کو آسان فرمادے گا۔
معلوم ہوا کہ شبِ برات عبادت اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی رات ہے اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس مبارک رات میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں قرآن مجید کی تلاوت، نوافل کی ادائیگی اور حضور علیہ السلام کی ذات مقدسہ پر درود شریف پڑھتے پڑھتے رات گذاریں ، قبرستان جاکر عزیزواقارب اور دیگر مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کریں اور مزارات مقدسہ پر حاضری دیں تاکہ وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور برکتیں حاصل کرسکیں

0 comments:

Post a Comment | Feed

Post a Comment



SHARE..!

Bookmark and Share
 

Flag Counter

free counters

Islam The GrEat Copyright © 2009 Premium Blogger Dashboard Designed by SAER