سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عن





سراج الامّہ
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ
از قلم
مولانا رجب علی نعیمی
جو قوم اپنے محسنوں کے نقوش پاسے اپنے دل و دماغ کو جلا نہ بخشے، ان کی راہوں پر جلنے سے صرف نظر کرے ان کی پاکیزہ زندگیوں سے اکتساب فیض نہ کرے، انہیں بھول جانے کی حماقت میں مبتلا ہو، وہ بہت جلد صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ جن بزرگوں نے ہمیں اسلام کی تبلیغ و تشہیر کی راہیں سمجھائیں، اپنے علم و عمل سے نیکیوں کے فروغ کے طریقے سکھائے، ایسے جلیل القدر صاحبان علم کی تعلیمات کو عام کرنا ہماری ملی زندگی کے لئے آب حیات کا کام دے گی اور اس میں کوتاہی سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔
انہیں مقدس نفوس میں سراج الامہ امام الائمہ رئیس المتکلمین زبدۃالمجتھدین استاذ المحدثین شمس الفقھاء بدر الاولیاء جامع شریعت نقیب طریقت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں جن کی ولادت 80ھ میں ہوئی جن کے بارے میں شیخ الاسلام علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
’’ان ابا حنیفہ النعمان من اعظم معجزات المصطفٰی بعد القرآن‘‘ (ردالمحتار جلد 1)
بے شک امام ابو حنیفہ قرآن کے بعد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعظم معجزات میں سے ہیں۔ اسی طرح مشہور محدث حافظ ابو نعیم بن عبداللہ اپنی کتاب ’’الحلیہ‘‘ میں یہ حدیث نقل فرما کر لکھتے ہیں کہ اس سے مراد امام اعظم ابو حنیفہ ہیں۔
’’لوکان العلم بالثریا لتناولہ رجال من ابناء فارس‘‘
ترجمہ: اگر علم ثریا تک پہنچ جائے تو فارس کے جواں مردوں میں سے ایک مرد ضرور اس تک پہنچ جائے۔
قیوم زمانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہ الربانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں کہ علم فقہ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ صاحب خانہ ہیں اور باقی آئمہ ان عیال و خوشہ چیں ہیں باوجود مذہب ابوحنیفہ پر کار بند ہونے کے امام شافعی سے ذاتی محبت رکھتا ہوں اور بعض اعمال صالحہ میں ان کی تقلید بھی کرلیتا ہوں مگر کیا کروں کہ دیگر آئمہ کرام باوجود علم و کمال تقویٰ کے امام ابوحنیفہ کے سامنے طفل مکتب نظر آتے ہیں نیز حضرت مجدد فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ پارسا علیہ الرحمۃ نے فصول ستہ میں تحریر فرمایا ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو وہ بھی امام ابوحنیفہ کے مذہب کے مطابق عمل فرمائیں گے یعنی حضرت روح اللہ کا اجتہاد امام ابو حنیفہ کے اجتہاد کے موافق ہوگا۔ تکلف و تعصب کی آمیزش کے بغیر کیا جائے گا کہ نورانیت مذہب صاحبان حنفی کشف و شہود کی نظر میں ایک عظیم الشان سمندر ہے اور باقی مذاہب اس کے بالمقابل نہرو حوض ہیں۔ حضرت خواجہ بن معصب کہتے ہیں کہ کعبہ کے اندر چار اماموں نے پورا قرآن ختم کیا ہے ایک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، دوسرے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ، تیسرے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ اور چوتھے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ۔
امام اعظم کا دور وہ مبارک دور تھا کہ جس میں حضور سرور کائنات رضی اللہ عنہ کے جمال جہاں تاب سے جو آنکھیں منور ہوکر صحابیت کے بلند مقام پر فائز ہوئیں ابھی اس جہان آب گل میں موجودتھیں علماء و محدثین فرماتے ہیں کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کو سات صحابہ کرام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور ان سے بے شمار حدیثیں سماعت فرمائیں ان صحابہ کرام کے اسماء یہ ہیں: سیدنا انس بن مالک، سیدنا عبداللہ بن جرزا الزبیدی، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا معقل بن یسار، سیدنا واثلہ بن الاسقع، سیدنا عبداللہ بن انیس، سیدنا عبداللہ بن اوفی، نیز علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ امام اعظم کے زمانہ میں ان صحابہ کرام کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں مختلف شہروں میں صحابہ کرام موجود تھے۔
نوٹ: بعض معاندین نے یہ سمجھا کہ آپ نے سات صحابہ کرام سے ملاقات کی، اس لئے وہ حضرات کہتے ہیں کہ امام اعظم کو صرف سات حدیثیں یاد تھیں۔ (انشاء اللہ العظیم اس کی تشریح آگے مضمون میں آئے گی) محققین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ امام اعظم نے جن صحابہ کرام کی زیارت فرمائی ان سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔
آپ کے اسم گرامی کی تشریح
علامہ ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمۃ آپ کے اسم گرامی (نعمان) کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نعمان اس خون کو کہتے ہیں جس پر بدن کا تمام ڈھانچہ قائم ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کی پوری مشینری کام کرتی ہے امام اعظم علیہ الرحمۃ کی ذات گرامی بھی دستور اسلام کے لئے محور اور عبادت و معاملات کے تمام احکام کے لئے روح کی مثل ہے، نیزفرماتے ہیں کہ نعمان کا معنی سرخ خوشبودار گھاس کے بھی آتے ہیں چنانچہ آپ کے اجتہاد اور استنباط سے بھی فقہ اسلامی اطراف عالم میں مہک اٹھی (الخیرات الحسان)
ایک شبہ کا ازالہ
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شاید آپ کی صاحبزادی کا نام حنیفہ تھا اس لئے آپ نے یہ کنیت اختیار کی ہے یہ بات بالکل لغو ہے بلکہ آپ کی کنیت ابوحنیفہ کا مطلب یہ ہے کہ صاحب ملت حنیفہ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ادیان باطلہ سے اعراض کرکے دین حق کو اختیار کرنے والا، امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ ابتدائی اور ضروری تعلیم دین حاصل کرنے کے بعد تجارت کی طرف متوجہ ہوئے ایک دن اسی سلسلہ میں بازار جارہے تھے راستے میں امام شعبی سے ملاقات ہوئی انہوں نے آپ کے چہرے پر ذہانت اور فطانت کے آثار دیکھے تو آپ کو بلایا اور پوچھا کہا ں جارہے ہو؟ آپ نے جواباً کہا بغرض تجارت بازار جارہا ہوں امام شعبی نے آپ کو ترغیب دی کہ علماء کی صحبت اختیار کرو کیونکہ میں تمہارے چہرے پر علم و فضل کے روشن آثار دیکھ رہاہوں ، علاوہ ازیں آپ کے سوانح نگاروں نے کچھ وجوہات اور بھی بیان فرمائی ہیں جس کے بعد آپ توجہ کے ساتھ تحصیل علم میں مشغول ہوگئے آپ نے بے شمار علماء محدثین کرام سے تلمذ فرمایا ان میں سے بعض صحابہ کرام تابعین بھی شامل ہیں آپ کے اساتذہ کی تعداد بہت کثیر ہے ان میں نمایاں حضرت انس بن مالک، عبداللہ بن اوفیٰ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ،ابوسفیان سعدی، حماد بن سلیمان، عطاء ابن رباح جیسے تابعی جماہیر و مشاہیر ہیں، اور ان حضرات سے آپ نے سب سے زیادہ استفادہ کیا کیونکہ آپ بے حد ذہین وزیرک تھے اس لئے آپ نے اجتہاد و استنباط کے ایسے زریں اصول مقرر فرمائے جن کی وجہ سے آپ کا مسلک دوسرے آئمہ کرام کے مسلک کے مقابلے میں سب سے زیادہ عقل و آگہی کے قریب انتہائی محتاط اور مزاج رسالت کی سب سے زیادہ رعایت کرنے والا ہے۔ چنانچہ کتاب اللہ کی رعایت سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت اور اتباع صحابہ کا سب سے زیادہ عنصر اگر کسی مسلک میں پایا جاتا ہے تو وہ فقہ حنفی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے آپ کو بے شمار وہبی اور کسبی خصوصیات سے نوازا تھا۔ علم و حکمت میں دیکھیں تو وہ ایک بحرناپیدا کنار زہد و تقویٰ کے لحاظ سے دیکھیں تو نا در روزگار، فراست و فطانت کے اعتبار سے پرکھیں تو ایک عظیم روشن مینار، استنباط مسائل اور فقاہت کے لحاظ سے دیکھیں تو اعمش اور سفیان ثوری، ابن عینیہ بھی ان سے سوال پوچھتے نظر آتے ہیں۔
امام اعظم کو بے شمار ایسے محاسن و فضائل حاصل تھے جن کی وجہ سے آپ اپنے معاصرین اور بعد کے آئمہ اور مجتہدین سے ممتاز اور فائق نظر آتے ہیں، آپ نہ صرف فقیہ اعظم بلکہ مجتہد مطلق تھے اور امام المتکلمین اوراستاذ المحدثین بھی تھے حافظ الحدیث حضرت عبداللہ بن مبارک مروزی علیہ الرحمۃ جن کو تمام اکابرین و اصاغرین واجلہ نقادین حدیث نے ثقہ، حجۃ، ففیہہ امام عصر فی الآفاق قرار دیا ہے فرماتے ہیں میں نے کوفہ پہنچ کر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہاں سب سے بڑھ کر فقہ کا ماہر کون ہے؟ اس شہر میں سب سے بڑھ کر حدیث کا عالم کون ہے؟ اس شہر میں سب سے بڑھ کر زاہد و متقی کون ہے؟ تو لوگوں نے میرے ان سوالات کے جواب میں کہا، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ۔
(مناقب امام اعظم، از، علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ)
امام اعظم کی فقہی بصیرت، علمی جلالت، محدثانہ ثقاہت، مسائل کے استخراج میں فہم و فراست پر روشنی ڈالی جائے تو ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے اس مختصر مقالہ میں اس کا احصا ممکن نہیں لہٰذا آپ کے ہم عصر علماء اور جماہیر و مشاہیر و تابعین کے اقوال زریں جو آپ کی علمی عظمت پر آج بھی شاہد ہیں قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں تا کہ قارئین پر واضح ہوجائے کہ آپ کو باری تعالیٰ نے کیسی جودت طبع عطا فرمائی تھی۔
امام شافعی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ تمام علماء فقہ میں امام ابوحنیفہ کے پروردہ ہیں امام ابو حنیفہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو فقہ میں موافقت حق عطا کی گئی۔ (بحوالہ تاریخ بغداد)
ابن عینیہ، عبداللہ بن مبارک سے نقل کرتے ہیں کہ ابوحنیفہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ (تاریخ بغداد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم علیہ الرحمۃ کہا کرتے تھے کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ کی مجلس سے فیض رساں اور کوئی مجلس نہیں۔ مسعر بن کدام علیہ الرحمۃ کہا کرتے تھے کہ کوفہ میں مجھے دو آدمیوں پر رشک آتا ہے ابوحنیفہ پر ان کی فقہ کی وجہ سے اور حسن بن صالح علیہ الرحمۃ پر ان کے زہد کی وجہ سے۔
اسرائیل کا قول ہے کہ نعمان بن ثابت سب سے زیادہ حدیث وفقہ جاننے والے تھے۔ (تاریخ بغداد)
امام اعظم کے ہمعصر حضرت زید بن ہارون علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ میں نے ایک ہزار استادان علم حدیث و فقہ سے علم حاصل کیا مگر واللہ سب سے زیادہ عالم حدیث اور ماہر فقہ اور کامل متقی امام ابوحنیفہ کو پایا۔ (الخیرات الاحسان)
محدث کبیر حضرت اعمش تابعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اعظم سے چند مسائل دریافت کیے امام صاحب نے حدیثوں سے جواب دیا، تو اس پر حضرت اعمش نے فرمایا اے گروہ فقہاء! تم طبیب ہوا ور ہم لوگ یعنی محدثین عطار کہ راویوں کے نام اور الفاظ پہچانتے ہیں اور آپ لوگ احادیث کے معنی و مفہوم کو بھی جانتے ہیں۔ (مناقب امام اعظم)
سید العرفاء حضرت ابو علی دقاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نے شریعت کا علم ابوالقاسم نفرآبادی سے انہوں نے حضرت شبلی سے انہوں نے سرّی سقطی سے انہوں نے معروف کرخی سے انہوں نے داؤد طائی سے انہوں نے امام اعظم ابو حنیفہ سے حاصل کیا۔ (تاریخ بغداد)
امام اعظم کے ذہین شاگرد امام ابو یوسف کا قول ہے کہ امام ابوحنیفہ سے بڑھ کر حدیث کے معانی اور فقہی نکات جاننے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ (الخیرات الاحسان)
عارف کامل رئیس الاولیاء سیدنا علی ہجویری داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں یہ حکایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضور رضی اللہ عنہ کی زیارت کی اور عرض کیا کہ آقاصلی اللہ علیہ وسلممیں آپ کو کہاں تلاش کروں فرمایا ’’عند علم ابی حنیفہ‘‘ علم ابوحنیفہ کے نزدیک۔ اس کتاب میں حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ اپنا خواب بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ موذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس کے سرہانے سورہا تھا کہ میں نے خواب میں خود کو مکہ معظمہ میں دیکھا اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی کہ آپ باب بنی شیبہ سے تشریف لارہے ہیں اور ایک معمر بزرگ کو اپنے پہلو میں اس طرح لے رکھا ہے جس طرح بچوں کو شفقت سے لیتے ہیں، میں فرط محبت میں دوڑا اور ایک ساتھ حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے پائے اقدس کو چومنے لگا میں سوچ رہا تھا کہ یہ معمر بزرگ کون ہیں؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم میرے دل کے اس خیال پر مطلع ہوئے۔ فرمانے لگے یہ تمہارے شہر کے لوگوں کا امام ہے یعنی ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ)۔ اس خواب کو دیکھنے کے بعد میرا یہ خیال قوی ہوگیا کہ امام اعظم ان پاک ہستیوں میں سے ہیں جو اوصاف طبع سے فانی اور احکام شرع کے ساتھ باقی و قائم ہیں کیونکہ ان کے چلانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر وہ خود چلتے تو باقی الصفت ہوتے اور باقی الصفت یا محظی ہوتا ہے یا مصیب۔ اور جب امام اعظم کے قائد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو فانی الصفت ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت فنا کر کے آپ کی صفت سے قائم ہے تو اس سے بھی خطا نہیں ہوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کے وضع کردہ اصول و قوانین کو امت محمدیہ کی اکثریت نے قبول کیا اور اعزاز و افتخار کے ساتھ فقہ حنفی کے مقلد ہوئے اور آپ کا مسلک ان ممالک میں پہنچا جہاں آپ کے مسلک کے سوا کوئی نہیں پہنچا، جیسے ہندو پاکستان، روم، ترکی، ماوراء النھر وغیرہ۔ آج دنیا میں دو ثلث سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی فقہ حنفی مطابق ہی اپنی عبادت و معاملات کو انجام دے رہی ہے۔
بڑے بڑے محدثین و محققین علماء کرام کے علاوہ صوفیائے عظام صالحین اولیاء کبار نے بھی آپ کے مسلک کو اختیار کیا اور اپنے علاقوں میں آپ کے مسلک کی ترویج واشاعت میں ایک اہم کردار ادا کیا ان اولیاء کا ملین میں سر فہرست یہ ہیں:
حضرت ابرہیم بن ادھم بلخی، حضرت شفیق بلخی، حضرت حبیب عجمی، حضرت معروف کرخی، حضرت بایزید بسطامی، حضرت سری سقطی، حضرت شیخ شبلی، حضرت عبداللہ بن مبارک، حضرت داؤد طائی، حضرت ابوالحسن خرقانی، حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش، حضرت خواجۂ خواجگان غریب نواز چشتی رضی اللہ عنہم۔
عبادت وریاضت
آپ کی عبادت وریاضت کا جو حال علماء غیر حنفی نے بیان کیا ہے کہ وہ اتنا حیرت انگیز ہے کہ آج اس تن آسانی کے دور میں اس کا تصور بھی کرنا محال نظر آتا ہے فضل بن وکیل کہتے ہیں کہ میں نے تابعین میں امام ابوحنیفہ کی طرح کسی شخص کو شدت خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا دعا مانگتے وقت آپ کا چہرہ خوف خداوندی سے زرد ہوجاتا تھا اور کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا بدن کسی مالخوردہ مشک کی طرح مرجھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ایک بار آپ نے رات کی نماز میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ ’’بل الساعۃ موعدھم الساعۃ ادھی وامر‘‘ کی تلاوت فرمائی پھر اس کی قرأت سے آپ پر ایسا کیف طاری ہوا کہ باربار اسی آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ موذن نے صبح کی اذان کہہ دی۔ (الخیرات الحسان)

0 comments:

Post a Comment | Feed

Post a Comment



SHARE..!

Bookmark and Share
 

Flag Counter

free counters

Islam The GrEat Copyright © 2009 Premium Blogger Dashboard Designed by SAER