معراج کا بیان (خصوصی مضمون) معراج کا بیان حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً‘‘ الآیۃ یہ آیت کریمہ نعت پاک مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا گنجینہ ہے۔ اس میں واقعہ معراج کا اجمالی ذکر ہے۔ تین باتیں اس جگہ قابل غور ہیں۔ (1) معراج کیوں ہوئی (2) کس طرح ہوئی (3) اس سے کیا نصائح حاصل ہوئیں۔ معراج چند مصلحتوں سے ہوئی اولاً یہ کہ تمام انبیائے کرام کو جو مراتب فرادی فرادی ملے وہ سب جمع ہو کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوئے۔ حضرت خلیل پر آگ گلزار ہوئی۔ تو جس دستر خوان سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دست مبارک پونچھے ، وہ تنور میں نہ جلا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ فرمایا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام سے حضرت جابر کے دو فرزند زندہ ہوئے (دیکھو خرپوتی)۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے مرد ے کو زندہ کرکے اپنی گواہی لی، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سوکھی لکڑیوں اور کنکریوں سے اپنا کلمہ پڑھوالیا۔ حضرت کلیم علیہ السلام نے عصا مار کر پتھر سے پانی پیدا کیا، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پیدا ہوئے۔ حضرت جابر کے ہاں کچھ دم فرمادیا، تو شوربا اور بوٹیاں اور آٹے میں برکت ہوئی۔ بلکہ حضرت جابر کی بیوی کے ہاتھ میں یہ طاقت حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ہی توجہ سے آئی کہ سینکڑوں آدمیوں کا کھانا پکالیا۔ چونکہ حضرت کلیم نے طور پر رب تعالیٰ سے کلام کیا۔ حضرت مسیح چہارم آسمان پر تشریف لے گئے، تو ضرور تھاکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج ملے، جو سب سے بڑھ کر ہو۔ کلیم اللہ طور پر تشریف لے گئے، کلمۃ اللہ چہارم آسمان پر، کلمات اللہ یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عرش سے آگے۔ کلمات اللہ کے برکات یہ ہیں کہ اس میں بلندی ہے۔ دوم: تمام نبیوں نے خدا کی ذات و صفات، جنت و دوزخ کی گواہی دی۔ مگر کسی نے آنکھ سے نہ دیکھا تھا۔ اور شہادت کی تکمیل یہ ہے کہ یا تو شاہد نے واقعہ خود دیکھاہو یا دیکھنے والے سے سنا ہو۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ گر وہ انبیاء میں ایک ہستی ایسی بھی ہو جس نے یہ تمام چیزیں اپنی آنکھ سے دیکھی ہوں۔ ’’اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْراً o‘‘ میں اسی طرف اشارہ ہے اور اسی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خاتم الانبیا کہا گیا۔ یہ شہادت ختم ہوچکی گویا اور انبیائے کرام کی خبریں اسناد تھیں اور حضور پر یہ اسناد ختم ہوئی۔ سوم: خدائے قدوس نے فرمایا کہ ’’اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ‘‘ اللہ خریدار ہے مسلمان بائع، اور سودا ہوا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معرفت سے۔ ضروری ہے جس کی معرفت سے سودا ہو، وہ قیمت اور مال کو خود دیکھے۔ تو فرمایا گیا کہ اے محبوب تم نے مسلمانوں کی جانوں اور مالوں کو ملاحظہ فرمالیا۔ اب آؤ جنت و دوزخ کی بھی سیر کرلو۔ ہم نے تم کو دیکھا، تم بھی ہم کو دیکھولو۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیکھنا مسلمانوں کا دیکھنا ہے۔ ’’قِرْاَۃُ الْاِ مَا مِ لَہٗ قِرْاَۃُٗ‘‘۔ چہارم: عرش و فرش اور تمام عالم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمادئیے گئے۔ ’’اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘‘ اسی لئے جنت کے دروازے پر پتہ پتہ اور ڈالی ڈالی پر لکھا ہے ’’لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ یعنی یہ تمام چیزیں کار خانہ قدرت الٰہیہ کی بنی ہوئی ہیں محمد رسول اللہ کی ملکیت میں دی ہوئی ہیں اور قاعدہ ہے کہ جس کی چیز اسی کا نام منظور الٰہی ہوا کہ مالک کو اس کی ملکیت دکھا دی جائے۔ پنجم: اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا! جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود! معراج کس طرح ہوئی نبوت کے گیارہ برس چھ ماہ بعد رجب کی 27 تاریخ کی آخری شب یعنی شب دو شنبہ کو حضرت ام ہانی کے گھر سے ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے جو بخاری ومسلم وغیرہ میں بیان ہوا کہ رجب کی ستائیسویں رات ہے شب کا آخری حصہ ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہمشیرہ ام ہانی بنت ابوطالب کے دولت خانہ میں آرام فرماہیں کہ حضرت جبریل امین براق اور برات لے کر حاضر ہوئے پیغام الٰہی لائے، اپنے کافوری بازو مبارک تلووں سے مل کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جگایا، رب تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ سینہ بے کینہ کو چاک فرما کر آب زم زم سے قلب پاک کو دھویا۔ پھر اس سینہ فیض گنجینہ کو حکمت و نور سے بھرا۔ پھر آب کوثر سے غسل کرایا۔ حضور کو دولہا بنایا، حلّہ بہشتی پہنایا، براق حاضر کیا جس کی برق رفتاری عقل سے باہرہے۔ تھا براق نبی یا کہ نور نظر یہ گیا وہ گیا اور نہاں ہوگیا حضرت جبریل نے لگام پکڑی، اسرافیل علیہ السلام پیچھے ہوئے، ملائکہ نے چاروں طرف سے براق کو گھیرلیا۔ اس شان سے اس نرالے دولہا کی سورای مکہ معظمہ سے روانہ ہوئی آن کی آن میں بیت المقدس آیا۔ وہاں تمام انبیاء اور رسل و ملائکہ کو موجود پایا، کہ استقبال کے لئے حاضر ہیں اور نماز کی تیاری ہے۔ امام الانبیاء کا انتظار ہے دولہا کا پہنچنا تھا کہ سب نے اسلامی مجرا ادا کیا۔ تمام انبیاء اور فرشتے مقتدی بن کر صف بستہ پیچھے کھڑے ہوگئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امامت فرمائی۔ سبحان اللہ کیا نماز ہے کہ انبیاء مقتدی، امام الانبیاء امام پہلا قبلہ جائے نماز ملائکہ مقربین مؤذن جبریل علیہ السلام نے اذان و تکبیر کہی نماز اسریٰ میں تھا یہ ہی سرعیاں ہوں معنے اول و آخر کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آکے کرگئے تھے اس نماز سے فارغ ہونا تھا کہ سفر آسمان تیار تھا۔ وہ ہی براق، وہ ہی رات، وہ ہی دولہا، وہ ہی براتی، آن کی آن میں پہلا آسمان آیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے استقبال کیا، اپنے فرزند کی بلائیں لیں۔ مدتوں بعد تمنا برآئی مرحبا کہا پھر یکے بعد دیگرے آسمان آتے گئے، گذرتے گئے، دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ و عیسیٰ، تیسرے پر حضرت یوسف، چوتھے پر حضرت ادریس، پانچویں پر حضرت ہارون، چھٹے پر حضرت موسیٰ، ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام زیارت سرکار سے مشرف ہوئے۔ یہاں سے گزرنا تھا کہ سدرہ سامنے آیا، یہ سدرہ حضرت جبریل کے لئے سدراہ بن گیا۔ پھر یہ حال ہوا بغورصدا سما یہ بندھا یہ سدرہ اٹھا وہ عرش جھکا صفوف سما نے سجدہ کیا ہوئی جو اذان تمہارے لئے جبریل امین نے آگے جانے سے معذرت کی فرمایا کہ جبریل یہ طریقہ ہمراہی نہیں، کہ ساتھ چھوڑ دو۔ عرض کیا اگر یک سر موئے برتر پرم فروغ تجلیٰ بسوزد پرم! آگے یا تو لے جانے والا رب جانے یا جانے والے محبوب کہ کہاں گئے، وہاں گئے جہاں کہاں ہی ختم ہوچکا کسے ملے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گذرے کہاں اتارا بھرا جو مثل نظر طرا را ! وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے ! رب نے کیا یاد، محبوب نے کیا لیا، رب نے کیا فرمایا، اور مصطفی نے کیا سنا۔ اور حبیب و محبوب، طالب و مطلوب میں کیا راز و نیاز ہوئے، یہ تو وہ دینے والا اور یہ لینے والا جانیں۔ قرآن کریم نے بھی یہ بھید نہ کھولا۔ بلکہ فرمایا ’’فاوحیٰ اِلیٰ عَبْدہ ما اوحیٰ‘‘ ہاں اپناپتہ لگا ہے کہ وہاں امت گنہگار کا ذکر بھی آیا۔ اور رب کی طرف سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا مبارک تحفہ ملا۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض پر پانچ پانچ کم ہو کر صرف پانچ باقی رہیں۔ نیز اسی سفر میں جنت و دوزخ کی سیر بھی فرمائی کہ جو واقعات بعد قیامت ہونے والے تھے وہ اسی شب ملاحظہ فرمائے چنانچہ ایک جماعت کو گرم پتھر کھاتے ملاحظہ فرمایا۔ جبریل علیہ السلام نے عرض کیا یہ بخیل مالدار ہیں جو مال کی زکوٰۃ نہیں دیتے۔ ایک شخص کو خون کے دریا میں کھڑا دیکھا تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یہ سود خوار ہیں جو غریبوں کا خون چوستے تھے۔ ایک قوم کو ملاحظہ فرمایا ان کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یہ بے عمل عالم ہیں جن کے کردار گفتار کے مطابق نہیں تھے۔ بعض لوگوں کو دیکھا جن کے ناخن تانبے کے ہیں، جن سے وہ اپنے جسم و چہروں کو زخمی کررہے ہیں۔ حضرت جبریل نے کہا کہ یہ چغل خوار اور غیبت کرنے والی قوم ہے۔ واقعہ معراج میں حسب ذیل نکات 1۔ نبوت کی مدت 23 سال ہے۔ جس کے نصف ½11سال میں معراج ہوئی۔ نبوت کا سال ربیع الاول سے شروع ہے۔ جس کے بالکل وسط میں رجب واقع ہے۔ ہفتہ شرعی جمعہ سے شروع ہوتا ہے۔ دو شنبہ بالکل اس کے وسط میں ہے۔ جس میں اشارہ ہے کہ اس نبی کا دین درمیانی دین ہے۔ اور امت امت وسط ’’وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اَمَّۃً وَّسَطاً لِّتَکُوْ نُوْا (الآیۃ)‘‘ لہٰذا معراج ماہ رجب دو شنبہ کی شب میں ہوئی۔ 2۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت، ہجرت، مدینہ منورہ میں داخلہ، عطاء نبوت، معراج اور وفات تمام امور دو شنبہ کو ہوئے۔ اسی لئے اس دن کا نام ہے یو م الاثنین، اور حضور کا درجہ ہے۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر غرض کہ دوسرے درجہ والا دوسرے دن میں ہر نعمت سے سرفراز فرمایا گیا اسی لئے اس دن کو پیر کہتے ہیں کہ تمام ایام ہفتہ اس سے مستفیض اور یہ فیاض ہے۔ 3۔ معراج رات میں ہوئی وہ بھی آخری رات 27کی، کہ نہ دشمنوں کو علم ہوا اور نہ دوستوں کو خبر، دو وجہ سے۔ اول تو اس لیے کہ معراج میں وصال ہے اور ہر وصال کے لیے رات موزوں۔ اسی لئے عبادات اور رازو نیاز کے لئے رات موزوں مانی گئی ہے۔ دوم اس لئے کہ آج حقیقت محمد یہ اصل رنگ میں جلوہ گرہے۔ کس آنکھ میں طاقت ہے کہ اس کو دیکھ سکے ہاں ملائکہ کی آنکھ ہی ہے جو اس جلوے کی متحمل ہو۔ ان میں بھی حسب طاقت ہی ساتھ دے سکے اس شب حضور کی مثال آفتاب کی سی تھی کہ جوں جوں چڑھتا ہے نور بڑھتا ہے۔ معراج کی شب ہمراہ ہیں سب سدرہ آیا کوئی نہ رہا سدرہ سے بڑھے جبریل رہے تنہا ہیں جو عرش خدا پایا! 4۔ بیت المقدس میں انبیاء کی امامت فرمائی کہ آپ نبی الانبیاء اور امام الحرمین کے لقب سے کتب سابقہ میں ملقب ہیں۔ نیز ارشاد ہوا ہے ’’ھَو الاول وَالآَخِرُ‘‘ آج اس کا ظہور ہے کہ سلاطین اولین مقتدی بن کر پیچھے حاضر ہیں۔ 5۔ انبیاء کرام سے آسمانوں پر ملاقات ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ براق کی رفتار بایں تیزی خراماں تھی۔ انبیاء کرام ابھی بیت المقدس میں تھے اور ابھی استقبال کے لئے اپنے اپنے مقامات پر آسمان میں پہنچ گئے۔ اس سے معلوم ہو اکہ انبیاء کرام اور ارواح مقدسہ کی رفتار نگاہ کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہے۔ 6۔ اولاً پچاس وقت کی نماز فرض ہوئی۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے باربار عرض کرنے پر پانچ رہیں۔ اس میں چند حکمتیں تھیں۔ اولاً تویہ کہ لوگ جان جاویں کہ ارواح مقدسہ بعد موت کے بھی زندوں کی امداد کرتی ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کی امداد سے پچاس نمازوں سے پانچ رہ گئیں۔ دوم یہ کہ موسیٰ علیہ السلام ملاحظہ فرمالیں کہ حضور کو وہ درجہ عطا ہوا ہے کہ بے تکلف بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوجاویں۔ نہ روزوں کی قید اور نہ نعلین پاک اتارنے کا حکم۔ سوم یہ کہ یہ عرش معلی کو باربار قدم پاک مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف یابی کا موقعہ ملے۔ چہارم اس لئے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا ’’رَبِّ اَرِنِیْ‘‘ اس وقت موقعہ نہ ملا، آج تبوسط مصطفی علیہ السلام خوب خدا کا دیدار کرلیں۔ 7۔ معراج پر نا واقفوں کے کچھ اعتراض ہیں۔ اولاً یہ کہ جسم ثقیل اوپر نہیں حرکت کرسکتا۔ دوم یہ کہ درمیان میں آگ اور زمہریر ہے وہاں سے انسان کی گذرنا ممکن ہے۔ سوم یہ کہ آسمان میں دروازہ نہیں کس طرح داخلہ ہوا۔ چہارم یہ کہ ہزار سال کا راستہ اتنی دیر میں کس طرح طے ہوا کہ واپسی پر زنجیرہل رہی تھی اور بستر گرم تھا۔ ان سب کا جواب فقیر کے پتھر کی طرح صرف ایک ہے کہ حضور نور ہیں اور نور کے لئے یہ کوئی بات نہیں۔ نور عینک میں سے نکل جاتا ہے بغیر دروازے کے آناً فاناً آجائے آسمان پر ہو کر لوٹتا ہے نہ جلتا ہے نہ سرد پڑتا ہے۔ |
معراج جسمانی کا ثبوت معراج جسمانی کاثبوت از قلم غزالی زمان علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ جولوگ معراج جسمانی کے منکر اور منامی (یعنی معراج خواب میں ہوئی) کے قائل ہیں ان کے شبہات مع جوابات حسب ذیل ہیں: پہلا شبہ: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاس‘‘ ’’اورنہیں کیا ہم نے اس رؤیا کو جو آپ کو دکھائی (اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ) لیکن آزمائش لوگوں کے لیے‘‘ بعض مفسرین نے اس آیہ کریمہ کو معراج پر محمول کیا ہے۔ لہٰذا معراج منامی ہوئی کیونکہ ’’رؤیا‘‘ عربی زبان میں خواب کو کہتے ہیں۔ جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے حدیبیہ یا بدر کی رؤیا پر حمل فرمایا ہے۔ اس لیے اس واقعہ معراج پر محمول کرنا حتمی اور یقینی امرنہ رہا۔ علاوہ ازیں لفظ رؤیا رویت بصری کی معنی میں بھی آتا ہے۔ خصوصاً رات میں جسمانی آنکھ سے دیکھنے کے معنی ہیں یہ لفظ اکثر استعمال ہوتا ہے۔ دیکھیے دیوان متنبی میں ہے مضی اللیل والفضل الذی لک لایمضی ورویاک احلی فی العیون من الغمض (دیوان متنبی، ص 188) ’’رات ختم اور تیرا فضل ختم ہونے والا نہیں اور تیرا دیدار جمال آنکھوں میں نیند سے زیادہ میٹھا ہے‘‘ اس شعر میں لفظ ’’رؤیا رویت بصری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اسی آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: ھی رؤیا عین اریھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیلۃ اسری بہ الیٰ بیت المقدس (بخاری شریف ، جلد اول، ص 55) کرمانی نے اس حدیث پر کہا: ’’رؤیا عین‘‘قید بہ اللّٰہ اشعارا بان رؤیا بمعنی الرؤیۃ فی الیقظۃ لارؤیا النائم (2ک حاشیہ ، ص 5) ترجمہ: ’’رؤیا کو عین کے ساتھ یہ ظاہر کرنے کے لیے مقید فرمایا کہ لفظ “رؤیا” یہاں بحالت بیداری دیکھنے کے معنی میں ہے، سونے والے کے خواب کے معنی میں نہیں‘‘۔ دوسرا شبہ: بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث وارد ہے جس میں حضرت انس نے تمام واقعہ معراج بیان کرنے کے بعد فرمایا ’’فاستیقظ وھو فی المسجد الحرام‘‘ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے بعض روایات میں’’بیناانا نائم‘‘ وارد ہے۔ بعض احادیث میں’’وھو نائم فی المسجد حرام‘‘ آیا ہے۔ ایک دوسری روایت میں’’بینا انا عندالبیت بین النائم والیقظان‘‘ ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بحالت خواب معراج ہوئی۔ اس کا جواب امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور امام بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری میں دیا ہے۔ ہم اسے نقل کیئے دیتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ’’فاستیقظ وھو بالمسجد الحرام‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اس کا اول راوی کا یہ قول ہے کہ پھر حضورعلیہ السلام بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے اس قول ظاہر پر بھی حمل کرنا جائز ہے اور اس کی تاویل بھی کی جاسکتی ہے۔ ظاہر پر عمل کریں تو کہیں گے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے واپس تشریف لاکر مسجد حرام میں سو گئے۔ پھر جب بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں ہی تھے اور اگر تاویل کریں تو ا س کے معنی یہ ہوں گے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج کے حال سے افاقہ ہوا تو آپ مسجد حرام میں تھے کیونکہ جب حضور علیہ السلام کو وحی ہوتی تھی تو آپ اس میں مستغرق ہوجاتے تھے۔ جب وحی ختم ہوتی تو حضور علیہ السلام کو حالت استغراق سے افاقہ ہوجاتا تھا۔ بالکل یہی کیفیت معراج کے وقت ہوئی کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں رہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر وہ استغراق کا حال طاری رہا جب حضور علیہ السلام مسجد حرام میں واپس تشریف لائے تو وہ حالت زائل ہوگئی اور حضور علیہ السلام پہلی حالت کی طرف لوٹ آئے۔ روای نے استیقظ کہہ کر اس سے کنایہ کیا ہے۔ (فتح الباری، ج13، ص41) امام ابن حجر نے آگے چل کر اسی بارے میں امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے جس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیدار ہونا اس نیند سے ہے جو معراج سے واپس تشریف لاکر حضور نے فرمائی تھی۔ کیونکہ معراج تمام رات نہیں ہوئی وہ تو بہت ہی قلیل ترین وقت میں واقع ہوئی تھی اور حضور علیہ السلام معراج سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے صبح اٹھے تو مسجد حرام ہی میں جلو ہ گر تھے۔ نیز احتمال ہے کہ استیقظ بمعنی افاقہ ہو کیونکہ ملاءِ اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے مشاہدہ کا حال حضور علیہ السلام پر ایسا غالب تھا کہ بشریت اور عالم اجسام کی طرف سے حضور علیہ السلام بالکل غیر متوجہ ہوگئے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد حرام پہنچنے تک یہی حال رہا۔ جب مسجد حرام میں جلوہ گر ہوئے تو حال بشریت کی طرف رجوع فرمایا اور حالت سابقہ سے افاقہ ہوا۔ اس افاقہ کو راوی نے استیقظ سے تعبیر کیا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملاءِ اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے حال سے افاقہ ہوا تو حضور علیہ السلام مسجد حرام میں تھے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاقول مبارک کہ میں سویا ہوا تھا تو اس سے شب معراج میں جبرئیل علیہ السلام کے آنے سے پہلے خواب استراحت فرمانا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے آنے سے قبل سورہے تھے جبرئیل علیہ السلام نے آکر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو جگایا۔ ایک اور روایت میں جو حضور علیہ السلام کا قول مبارک آیا ہے کہ ’’انا بین النائم والیقظان اتاتی الملک‘‘ میں سونے جاگنے کے درمیان تھا کہ میرے پا س جبرئیل آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کو معراج کرانے کے لیے جس وقت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے تو اس وقت حضور علیہ السلام کی نیند مبارک ایسی ہلکی اور خفیف تھی کہ جسے سونے جاگنے کی درمیانی حالت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جب جبرئیل علیہ السلام آئے تو انہوں نے اس خفیف نیند سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کیا اور اس کے بعد بیداری میں حضور معراج پر تشریف لے گئے۔ (فتح الباری، ج 13، ص417، مطبوعہ مصروعمدۃ القاری، ج 25، ص173، مطبوعہ مصرطبع جدید) لہٰذا ثابت ہوا کہ تینوں میں سے ایک روایت بھی معراج منامی کی دلیل نہیں اور منکرین کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ وللہ الحمد تیسرا شبہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’مافقدت جسد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج‘‘ ترجمہ: معراج کی رات میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک گم نہیں پایا جواب: جواب یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بعثت کے ایک یا ڈیڑھ یا پانچ سال بعد اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہوئی ہے۔ ان اقوال کے بموجب معراج مبارک ہجرت سے آٹھ سال یا ساڑھے گیارہ سال یا بارہ سال پہلے ہوئی اورہجرت وقت حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر شریف 9؍ سال تھی ظاہر ہے کہ اس صورت بربنائے میں بعض اقوال معراج کے وقت حضرت عائشہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اور اگر ان کی پیدائش مان بھی لی جائی تو بہر نوع حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا پایا جانا ہجرت کے بعد ہی ہے۔ پھر ان کا یہ فرمانا کہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک معراج کی رات گم نہیں پایا۔کیونکہ متصور ہوسکتا ہے؟ رہایہ شبہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث ان الفاظ سے بھی مروی ہے: ’’فقد جسد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایت بلاشبہ غیر ثابت اور مبنی برخطا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مافقدت اور فقد دونوں روایتیں ازروئے درایت و درروایت صحیح نہیں اس لیے اس سے معارضہ کرنا باطل ہے۔ اور برتقدیر تسلیم اس حدیث کے یہ معنی مراد لیئے جائیں کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا معراج مبارک کی سرعت اور اس کی قلیل ترین وقت میں ہونے کو بیان فرمارہی ہیں کہ حضور علیہ السلام کا آنا جانا اس قدر تیزی اور سرعت کے ساتھ واقع ہوا کہ گویا جسم مبارک گم ہونے ہی نہیں پایا تو یہ معنی دیگر روایات کے مطابق ہو کر صحیح قرار پائیں گے۔ چوتھا شبہ: یہ کہ آیت قرآنیہ ’’ماکذب الفؤاد مارأی‘‘ سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ معراج خواب میں ہوئی۔ جواب: جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا ترجمہ نیند اور خواب کیا جائے۔ آیت کے معنی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک نے اس چیز کی تکذیب نہیں کی جسے چشم مبارک نے دیکھا۔ یعنی معراج کی رات حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چشم اقدس سے جو کچھ دیکھا اس میں حضور علیہ السلام کو کسی قسم کا وہم یا اشتباہ واقع نہیں ہوا اور اس کی دلیل یہ آیت ہے ’’مازاغ البصرو ماطغی‘‘ (نہ کج ہوئی نگاہ بہ بہکی) لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لیے آتا ہے خواب میں دیکھنے کو بصر نہیں کہتے۔ الحمدللہ قائلین معراج منامی کے تمام شبہات کا ازالہ ہوگیا۔ |
0 comments: