وصایا شریف پر اعتراض کا جواب

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی وصایا شریف پر قاری طیب کا اعتراض
اور مولانا شریف الحق امجدی رحمہ اللہ کادندان شکن جواب
ماخوذ از
تحقیقات،از فقیہ الہند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمہ اللہ
[شارح بخاری و صدر شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ، مبارکپور ہند]
تلبیس نمبر 1
’’رضا خانی فرقہ تقریباً نصف صدی سے ظہور میں آیا ہے اس سے پہلے اس کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔’’اعلیٰ حضرت بریلوی‘‘ اس کے بانی ہیں۔ اس کی بنیاد بھی اعلیٰ حضرت کے وصایا پر ہے اور وصایا شریف کے بعینہ الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
’’میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔‘‘
اعلیٰ حضرت بریلوی کے آخری بعینہ الفاظ جو 12بجکر 21منٹ 25صفر 1340ھ وصایا میں قلم بند ہوئے۔
اب اس میں کوئی شبہہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ یہ فرقہ نیا ہے۔‘‘
جواب
قاری طیّب کا جھوٹ
عنایت مجھ پہ فرماتے ہیں شیخ و برہمن دونوں
موافق اپنے اپنے پاتے ہیں میرا چلن دونوں
قبلہ! آپ نے یہاں دو دعوے کیے ہیں۔
ایک: یہ کہ رضا خوانی فرقہ تقریباً نصف صدی سے ظہور میں آیا ہے اس کی بنیاد بھی اعلیٰ حضرت کے وصایا پر ہے جو 12بجکر 21منٹ 25صفر 1340ھ میں قلمبند ہوئی۔
دوسرا: یہ کہ اس کے بانی اعلیٰ حضرت (قدس سرہ) ہیں۔
آپ کے یہ دونوں دعوے اسی وقت صحیح ہوسکتے ہیں کہ وصایا قلمبند ہونے کے وقت یعنی 25صفر 1340ھ 12بجکر 21منٹ پر یا اس کے بعد اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کوئی ایسی کتاب تصنیف فرمائی ہو جس میں اپنے اس مذہب کے اصول و فروع، ضوابط درج فرمائے ہوں۔
اگر آپ جھوٹے، کذّاب، مفتری نہیں! تو بتائیے 25صفر 1340ھ کے 12بجکر 21منٹ کے بعد اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کون سی کتاب تصنیف فرمائی ہے؟ اگر آپ یہ نہیں ثابت کرسکتے تو خود آپ اس کلام سے آپ کا مفتری و کذاب ہونا ثابت ہوگیا۔
سچ ہے چور بھاگتا ہے نشان قدم چھوڑ جاتا ہے۔ واضح ہو کہ 25صفر ہی کو وصایا قلمبند کرانے کے دو گھنٹہ بعد اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا وصال ہوگیا۔ اس درمیان میں ایک سطر بھی نہیں تحریر فرمائی اور نہ کسی سے کچھ لکھوایا پھر نئے مذہب کی بنیاد کیسے ڈالی؟ اس کے اصول و فروع، قواعد و ضوابط کب منضبط فرمائے؟
میرا دین و مذہب کا مطلب
دیوبندی اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اس ارشاد سے کہ ’’میرا دین و مذہب جو میری کتابوں سے ظاہر ہے۔‘‘ استدلال کرتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا مذہب ان کا خود ایجاد کردہ ہے یہ بھی کوئی نیا الزام نہیں برسہا برس کا فرسودہ ہے۔ 1352ھ کے ادری کے مناظرہ میں پھر بریلی کے مناظرہ میں منظور سنبھلی نے پیش کیا تھا پھر مقامع الحدید میں بیان کیا اور اس کا جواب العذاب الشدید میں دیا گیا پھر آئینہ باطل میں اعادہ کیا جس کا جواب ’’برق خداوندی‘‘ میں 1371ھ میں دیا گیا اور اب قاری صاحب نے پھر اسی مردود کو لوٹایا ہے۔
یہ قاری صاحب کی اعلیٰ سمجھ کا کرشمہ ہے کہ میرے دین و مذہب کا مطلب میرا ایجاد کردہ لیا حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ میرے دین اور میرے مذہب کا مطلب ’’میرا اختیار کردہ پسندیدہ مذہب ہے۔‘‘ کسی عرف کسی لغت میں میرے دین کے معنی ایجاد کردہ نہیں ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے: اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا۔
قبلہ فرمائیے!یہاں تمہارے دین کے معنی کیا ہیں۔ جو یہاں مراد ہے وہی وصایا شریف کی عبارت میں بھی مراد ہے۔
حدیث میں ہے کہ منکر نکیر قبر میں سوال کریں گے مَا دینک تیرا دین کیا ہے؟ مومن جواب دے گا میرا دین اسلام ہے۔
قاری صاحب! بولیے! یہاں ’’میرا دین‘‘ سے کیا مراد ہے جو مراد یہاں ہے وہی وصایا شریف کی عبارت میں ہے۔
حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ثم اعتقادی مذہب النعمان یعنی قیامت کے دن کے لیے جو اندوختہ جمع کیا ہے وہ مذہب نعمان پر میرا اعتقاد ہے۔
بولیے حضرت جی! مذہب نعمان کے کیا معنی ہیں۔
جو اس مصرع میں مذہب نعمان کے معنی ہیں، وہی وصایا شریف کی عبارت کے ہیں۔
دیوبندی مذہب دیوبندی اکابر کا ایجاد کردہ ہے
حضرت جی! جب آپ کی تحقیق انیق یہ ہے کہ میرے دین و مذہب کے معنی ’’میرا ایجاد کردہ دین و مذہب ہے‘‘ تو لیجیے سنیے دیوبندی دھرم دیوبندی مولویوں کا ایجاد کردہ اور گڑھا ہوا ہے۔
آپ کے حکیم الامت تھانوی صاحب نے حفظ الایمان میں سوال اول کے جواب میں سات جگہ لکھا ہے: ’’ہماری شریعت! ہماری شریعت‘‘۔
دین و مذہب اور شریعت کی متکلم کی طرف اضافت کے معنی آپ کے زعم میں ’’متکلم کا گڑھا ہوا، اور اختراع کردہ ہے‘‘ تو ثابت ہوگیا کہ تھانوی صاحب جسے ہماری شریعت! ہماری شریعت کہہ رہے ہیں وہ تھانوی جی کی گڑھی ہوئی اور اختراعی شریعت ہے۔ اس کے سارے دیوبند پابند ہیں۔
مدار حقانیت دیوبندی اکابر کی زبان ہے
اس الزام سے قطع نظر مقام تحقیق میں آئیے تو معلوم ہوجائے گا کہ دیوبندی دھرم یقیناً دیوبندی مولویوں کا ایجاد کردہ اور گڑھا ہوا ہے۔ ’’تذکرۃ الرشید‘‘ حصہ دوم ص17 پر ہے:
’’آپ (گنگوہی) نے کئی مرتبہ یہ الفاظ زبان فیض ترجمان سے فرمائے: سن لو حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے۔ اور میں بہ قسم کہتا ہوں کہ میں کچھ بھی نہیں مگر اس زمانہ میں ہدایت اور نجات موقوف ہے میرے اتباع پر۔‘‘
قبلہ قاری صاحب! اگر آپ کی آنکھ کا موتیا بند دور ہوچکا ہے تو خود ورنہ کسی کفش بردار یا کسی دفتری سے بار بار پڑھوا کر اپنے قطب الاقطاب کا یہ ارشاد بغور سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر بوجہ کبر سنی، قوت فہم ناقص ہوگئی ہے تو ہم سے سنیں۔ ارشاد ہے:
’’سن لو حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے‘‘
واضح ہو کہ یہ نہیں فرمایا کہ ’’جاری ہوتا ہے‘‘ بلکہ فرمایا: ’’نکلتا ہے‘‘
’’جاری ہوتا ہے‘‘ اور ’’نکلتا ہے‘‘ کے درمیان فرق کو ذہن نشین کرنے کے لیے سنیے:
بارش کا پانی زمین پر جاری ہوتا ہے۔ زمین سے نکلتا نہیں بلکہ بادلوں سے نکلتا ہے۔ آپ کے قطب الاقطاب کے ارشاد میں لفظ نکلتا ہے معنی یہ ہوئے کہ جو کچھ میری زبان سے نکلے وہ حق ہو، اور جو نہ نکلے وہ حق نہیں! اگرچہ میری زبان پر اضطراراً مصلحتاً جاری ہوجائے۔
ظاہر ہے کہ قرآن و احادیث و ارشادات صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین و اسلاف گنگوہی جی کی زبان پر جاری ضرور ہوئے ہوں گے مگر وہ ان کی زبان سے نکلے ہرگز نہیں! اس لیے قرآن و حدیث ارشادات صحابہ و ائمہ مجتہدین و اسلاف حق نہیں! بلکہ حق حضرت جی کے ایجاد کردہ، اختراع کردہ وہ ارشادات ہیں جو ان کی زبان سے نکلے ہیں جس کی مزید توضیح و تاکید آگے ہے کہ
’’ہدایت و نجات موقوف ہے۔ میرے اتباع پر۔‘‘
ہم مسلمانوں کے نزدیک ہدایت اور نجات حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر موقوف ہے۔ مگر مسلمانوں کے برخلاف دیوبندی مذہب میں ہدایت و نجات گنگوہی کی اتباع پر موقوف ہے۔
بولیے! اب دیوبندی مذہب آپ کے قبلہ گنگوہی جی کا ایجاد کردہ ہوا کہ نہیں؟
’’گنگوہی سے پہلے قرآن و حدیث حق نہیں تھے‘‘
پھر اگر ’’جاری ہونے‘‘ اور ’’نکلنے‘‘ کو کسی ایر پھیر سے ہم معنی بھی مراد لے لیں تو بھی یہ الزام قائم رہے گا کہ قرآن و احادیث، ارشادات سلف، حق ہونے کے لیے محتاج ہیں۔ گنگوہی کے زبان کے، جو اس کی زبان پر جاری ہوئے وہ حق ہے جو نہیں جاری ہوئے وہ ناحق، جب جاری ہوئے حق۔ اور جب تک جاری نہیں ہوئے تھے ناحق۔
لہٰذا گنگوہی کے مسند ارشاد پر قائم ہونے کے پہلے نہ قرآن حق تھا نہ احادیث اور نہ ارشادات سلف۔
نیز ظاہر ہے کہ احادیث و تفاسیر کتب فقہ کے تمام دفاتر ان کی زبان سے نہیں نکلے۔
لہٰذا جو نکلے وہ دیوبندی دھرم میں حق ہوئے اور جو نہیں نکلے وہ ناحق۔ کیا قبلہ! یہ ثابت کرسکتے ہو کہ احادیث و تفاسیر و کتب فقہ کے تمام دفاتر گنگوہی جی کی زبان سے نکلے؟
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔
تو بولیے! بیک جنبش لسان گنگوہی نے آیاتِ کریمہ، کتب تفاسیر و فقہ کے اکثر حصے کو ناحق بتایا۔
حق گنگوہی کے پیچھے پھرتا تھا
قاری صاحب! یہ ہوتا ہے! گڑھا ہوا دین، اختراع کیا ہوا مذہب اور جعلی شریعت۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن نے گنگوہی کی شان میں کہا:
جدھر کو آپ مائل تھے ادھر ہی حق بھی دائر تھا
مرے مولیٰ مرے آقا تھے حقانی سے حقانی
(مرثیہ رشید احمد)
گنگوہی کے علاوہ دوسری جگہ حق ڈھونڈنے والا گمراہ ہے
اس نے مزید لکھا ہے:
ہدایت جس نے ڈھونڈھی دوسری جاگہ ہوا گمراہ
وہ میزاب ہدایت تھے کہیں کیا نص قرآنی
لیجیے! آپ کے شیخ صاحب نے نص قرآنی سے ثابت مانا کہ جو گنگوہی کے علاوہ کہیں اور جگہ ہدایت ڈھونڈھے وہ گمراہ ہے۔
دوسری جگہ کے عموم میں اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں۔قاری صاحب! یہ ہوتا ہے نیا دین اور نیا مذہب۔‘‘
گنگوہی اور نانوتوی نے اسلام کو بھی منسوخ کردیا
اور سنیے! یہی شیخ صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
شرک و بدعت سے کیا صاف رہ سنت کو
پھر غلط کیا ہے کہ ہیں ناسخ ادیاں دونوں
لیجیے! یہ بات بالکل صاف ہوگئی، گنگوہی اور نانوتوی ناسخ ادیان ہیں یعنی انہوں نے اپنے زمانہ میں موجودہ اور گذشتہ تمام دینوں کو منسوخ کردیا اور اپنا دین چلایا۔ ان کے زمانہ میں اسلام بھی موجود تھا اس لیے یہ دونوں اس کے بھی ناسخ ہوئے۔
معلوم ہوا کہ دیوبندی دھرم میں اسلام منسوخ ہے اور بالاجماع منسوخ پر عمل جائز نہیں! اس لیے ثابت ہوگیا کہ دیوبندی دھرم میں مذہب اسلام پر عمل جائز نہیں۔
اب بانیان دیوبندیت نے جو دھرم گڑھ کر بنایا اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ اسی لیے گنگوہی جی نے فرمایا ہے کہ ’’اس زمانہ میں ہدایت و نجات موقوف ہے میرے اتباع پر۔‘‘
اب بھی اگر طمانیت قلب حاصل نہ ہوئی ہو تو لیجیے سنیے۔ مولوی خلیل احمد انبیٹھی کی کتاب المہند کے بارے میں لکھا ہے:
’’جن کو مولانا خلیل احمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔ واقعی میں اس قابل ہے کہ
ان پر اعتماد کیا جاوے اور ان سب کو مذہب قرار دیا جائے۔‘‘
ناظرین! ’’مذہب قرار دیا جائے‘‘ کے لفظ پر غور کریں۔ دیوبندی دھرم، قرآن دھرم نہیں بلکہ انبیٹھی دھرم ہے جس میں ’’نجات اخروی‘‘ کبھی گنگوہی جی کے اتباع پر لٹک جاتی ہے اور کبھی تھانوی جی کے ’’چرن‘‘ دھوکر پینے پر۔
چنانچہ تذکرۃ الرشید حصّہ اول ص113 پر ہے:
’’واللہ العظیم مولانا تھانوی کے پاؤں دھوکر پینا نجات اخروی کا سبب ہے۔‘‘
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
سیدھی سی بات تھی کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرما رہے ہیں کہ مذہب اہلسنت و جماعت جو میرا پسندیدہ و اختیار کردہ دین و مذہب ہے جس کے اصول و فروغ اردو زبان میں قرآن و احادیث و ارشادات سلف سے نقل کرکے میں نے اپنی تصانیف میں جمع کردیے ہیں ان پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
حضرت جی! کیا آپ کو اس سے انکار ہے کہ مذہب اہلسنت پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
ضرور آپ کو انکار ہوگا جبھی تو اس پر اعتراض جڑ دیا۔ آپ کے نزدیک تو گنگوہی کی زبان سے جو کچھ نکلا ہے۔ انبیٹھی نے جو کچھ لکھا ہے ان پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔ اس لیے جو اس کے برخلاف مذہب اہل سنت پر قائم رہنے کی دعوت دے گا وہ ضرور آپ کے نزدیک لائق تعزیر ہوگا۔
تلبیس نمبر2
پھر اس اشتہار میں اعلیٰ قدس سرہ کی وصیت پر جو اپنی فاتحہ کے بارے میں فرمائی ہے حضرت قبلہ قاری جی نے بھی بازاری بھانڈوں کی طرح سے اپنے سوقیانہ پن کو آزمایا ہے۔ وصیت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
میں وصیت نامۂ احمد رضا خاں دیکھ کر
کیوں نہ کہہ دوں قبر میں بھی پیٹ ہی کی فکر ہے
قاری طیب کی جہالت
دیکھ اے دل نہ چھیڑ قصۂ زلف
کہ یہ ہیں پیچ و تاب کی باتیں
صرف ہم ہی نہیں ملک کا پورا سنجیدہ و متین طبقہ سربگریبان ہے کہ اس وصیت پر اعتراض کا کیا حاصل؟ اعلیٰ حضرت نے یہ تو نہیں فرمایا کہ اب میرا اخیر وقت ہے یہ چیزیں لاؤ ان میں میری روح اٹکی ہوئی ہے۔
یہ تو نہیں فرمایا کہ یہ چیزیں میری قبر میں رکھ دینا، یہ تو نہیں فرمایا کہ میرے بعد میری اہلیہ میرے صاحبزادوں کو دے دینا۔
بلکہ وصیت کی تو یہ کہ میرے بعد میری فاتحہ میں یہ چیزیں فقراء کو دی جائیں اور وہ بھی مشروط ہے کہ اعزہ سے اگر بطیب خاطر ممکن ہو تو! چھینا جھپٹی نہیں، کسی کی جیب پر ڈاکہ نہیں، مگر معلوم نہیں قاری صاحب اور ان کے دادا کی امت کو کیوں برا لگا۔ وہ آج پچاس برس سے اس پر اپنے مسخرہ پن کو آزما رہے ہیں اور اس پر اپنے سفلہ پن کا وہ ننگا ناچ ناچتے ہیں کہ پیشہ ور بھانڈ بھی شرما جائے۔
وصیت مبارکہ کی تشریح
مساکین سے محبت ان کی خاطر و مدارات ایک پسندیدہ فعل ہے حتی کہ سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی ہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِعَلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرَکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْن اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں نیکیوں کے کرنے، برائیوں کے ترک اور مساکین کی محبت کا۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ اپنی زندگی بھر حتی الوسع مساکین کی طرح طرح سے مدد فرماتے رہے وصایا کے وقت بھی ان کا خیال رہا۔
شہزادوں کی جس طرح تربیت کی تھی اس سے اطمینان تھا کہ یہ لوگ ضرور میری اتباع میں مساکین کی مدد کرتے رہیں گے مگر غایت کرم کہ پھر بھی وصیت فرمائی۔ عموماً لوگ مساکین کو معمولی کھانے دیتے ہیں اور خود عمدہ سے عمدہ کھاتے ہیں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو مساکین کے ساتھ جو محبت تھی اس کے پیش نظر وصیت کی تشریح کردی کہ اچھے سے اچھے کھانے دیے جائیں۔
یہ وصیت عاقل کریم کے نزدیک اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اخلاق کریمانہ کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ مگر دیوبندی اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ صرف فقراء اہلسنت کے لیے ہے انھیں ان میں سے کچھ نہ ملے گا اس لیے چڑھ کر اسے اپنے سوقیانہ سرشت کا نشانہ بنالیا۔
ان بدبختوں کی قسمت میں کوّے، کپورے، بتوں کے چڑھاوے کی پوری کچوریاں ہی ہیں یہی زندگی بھر کھاتے رہے۔[ ملاحظہ فرمائیں فتاویٰ رشیدیہ۔] اس وصیت میں نعماء ربانی کی فہرست دیکھ کر منھ میں پانی بھر آیا مگر جب دیکھا کہ ہمیں ملے گا تو ہے نہیں تو انگور کھٹے ہوگئے۔
اکابر دیوبند کو اخیر وقت اپنے پیٹ کی فکر تھی
سنو! کہ تمہارے اقنوم اول نانوتوی جی اور شیخ ٹانڈوی جی کو دم نکلنے کے وقت اپنے ہی پیٹ کی پڑی تھی۔
دیکھو الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر ص114 کالم 2 و 3
’’کچھ عجیب اتفاق ہے کہ عموماً تمام مشائخ (دیوبند) اور خصوصاً مولانا محمد قاسم نے آخر وقت میں پھل کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لیے لکھنؤ سے ککڑی منگائی گئی۔ حضرت (ٹانڈوی) نے بھی آخر میں سردے کی خواہش کا اظہار فرمایا اور منجانب اللہ اسلاف کی سنت پر طبیعت اس درجہ مجبور ہوئی کہ مولانا قاسم صاحب اور مولانا شاہد صاحب فاخری ملاقات کو تشریف لائے تو فرمایا کہیے کیا آج کل سرد انہیں مل سکتا۔ انھوں نے فرمایا: ضرور مل جائے گا چونکہ اس کے قبل مولانا اسعد صاحب مولانا فرید الوحدیدی صاحب وغیرہ نے دہلی، سہارنپور، میرٹھ ہر جگہ تلاش کیامگر کہیں دستیاب نہ ہوا اس لیے حضرت نے فرمایا کہاں مل سکتا ہے؟ مولانا وحیدالدین صاحب قاسمی نے عرض کی کہ انشاء اللہ دہلی میں مل جائے گا۔ مولانا شاہد صاحب نے عرض کیا جی ہاں تلاش کے بعد بہت امید ہے کہ مل جائے۔
اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ حضرت نانوتوی کے لیے لکھنؤ سے ککڑی منگائی گئی تھی تو حضرت کے لیے مولانا سجاد حسین کی معرفت کراچی سے اور مولانا حامد میاں صاحب نے لاہور سے سردہ بھیجا۔‘‘
مرد مومن کا جب وقت قریب آتا ہے تو بقاء ربانی کے شوق میں دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہوکر رب العالمین کی طرف متوجہ ہوتا ہے
نشان مرد مومن باتو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست
مگر دیوبندی ملّوں کو اپنی آتش شکم سرد کرنے کی پڑی رہتی ہے کوئی ککڑی کے انتظار میں ہے، کوئی سردہ کے لیے بے چین ہے، کسی کی روح ککڑی میں اٹکی ہوئی ہے کسی کی سردہ میں۔
’’بولو! کیا مردان حق آگاہ کا یہی وتیرہ ہے۔؟‘‘
تھانوی کو مرتے وقت اپنی بیگم کے پیٹ کی فکر تھی
اور سنو! یہ تو مرتے دم تک اپنے تغار بھرنے کی فکر میں رہے اور تمہارے بزرگ تھانوی جی اپنی دلہن کے فکر مند اور مریدوں کو وصیت کرتے ہوئے مرے:
’’مرے بعد بھی مرے تعلق کا لحاظ غالب ہو، وصیت کرتا ہوں کہ بیس آدمی مل کر اگر ایک ایک روپیہ ماہواران (بیوی صاحبہ) کے لیے اپنے ذمہ رکھ لیں تو امید ہے کہ ان کو تکلیف نہ ہوگی۔‘‘ (تنبیہات وصیت ص20)
ناظرین غور کریں کتنا تفاوت ہے اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی وصیت اور تھانوی کی وصیت میں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو خیال ہے تو غرباء کا اور مساکین کا اور تھانوی جی کو فکر ہے تو اپنی بیگم صاحبہ کے پیٹ کی اور مرتے مرتے بیگم صاحبہ کے لیے مریدین سے ماہواری جاری کرنے کے لیے کہہ گئے۔
کوئی مرتے وقت ککڑی کے لیے کروٹیں بدل رہا ہے، کسی کی سردہ پر رال ٹپک رہی ہے، کوئی ہائے بیگم، ہائے بیگم پکار رہا ہے۔ یہی ہے دیوبندی مولویوں کے آخری وقت کا حال۔
فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَلْبَابِ
شیخ ٹانڈہ کی مٹھائی کھانے کی عادت اور چھینا جھپٹی
ایسا بھی نہیں کہ اکابر دیوبند زندگی بھر فاقہ کرتے رہے ہوں اس لیے آخر وقت اکابر دیوبند کی مٹھائی کھانے کی دبی ہوئی شہوت ابھر آئی ہو بلکہ پوری زندگی شکم پروری کے دلچسپ قصوں سے بھری ہوئی ہے۔ بطور نمونہ دو مزیدار قصے درج ذیل کیے جاتے ہیں۔
پہلے الجمعیۃ کے شیخ الاسلام نمبر میں ٹانڈوی جی کی اپنے ایک عاشق زار کے ساتھ چھینا جھپٹی ملاحظہ ہو۔
’’حضرت (ٹانڈوی) جی فرماتے۔ حاجی (بدرالدین) صاحب آپ مٹھائی کیوں نہیں لائے؟ تو میں عرض کرتا کہ حضور میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو حضرت طالب علموں کو حکم دیتے کہ ان کی تلاشی لی جائے۔ پھر کیا تھا جتنے بھی طالب علم ہوتے سب کے سب میرے اوپر ٹوٹ پڑتے اور جو رقم میرے پاس ہوتی سب کی مٹھائی منگائی جاتی اور حصہ سے تقسیم ہوتی اور کبھی کبھی تو حضرت میری شیروانی مذاق سے چھین کر اپنے پاس رکھ لیتے اور کہتے کہ جب واپس ہوگی جب مٹھائی کے واسطے پیسے دو گے، جب مجھ کو پیسے دینے پڑتے۔ حضرت کو بھلا کس بات کی کمی تھی، آپ کے پاس ہزاروں من مٹھائیاں تھیں۔‘‘
ناظرین! آپ نے دیکھا دیوبندیوں کے شیخ الاسلام کی مٹھائی کھانے کی عادت کہ غریب عاشق اگر مٹھائی نہ لاتا تو چھینا جھپٹی ہوتی وہ غریب جان بچانے کے لیے جھوٹ بولتا کہ پیسے نہیں ہیں مگر طلبہ کی فوج چھوڑ دی جاتی، زبردستی پیسے چھینے جاتے دارالحدیث میں جیب پر ڈاکہ پڑتا، شیروانی چھین لی جاتی، بغیر مٹھائی کے پیسے دیے واپس نہ ہوتی، یوں ہزاروں من مٹھائی اسٹاک میں رہتی۔ یہ پیٹ تھا کہ ہوشربا کی زنبیل۔
دھول دھپّا اس بت طناز کا شیوہ نہیں
پیش دستی کر ہی بیٹھے ہم ہی غالب ایک دن
نانوتوی کی مٹھائی کھلانے کی عادت
یہ تو تھا مٹھائی کھانے کا شوق اب مٹھائی کھلانے کی عادت ملاحظہ کریں۔
بانئ مدرسہ دیوبند نانوتوی صاحب کے بارے میں ہے:
’’ایک مرتبہ مولانا محمد قاسم صاحب کے پاس آپ کے خادم مولوی فاضل حاضر تھے۔ مولانا نے ان کو مٹھائی تقسیم کرنے کے واسطے فرمایا۔ (کیونکہ مولانا کا کوئی جلسہ مٹھائی سے خالی نہ ہوتا تھا اگر کہیں سے آئی ہوئی موجود نہ ہوتی تو خود منگواکر تقسیم فرماتے) انھوں نے تقسیم کردی۔ آخر میں اتفاق سے اس میں تھوڑی سی مٹھائی بچ گئی تو آپ نے فرمایا:
الفاضل للقاسم۔ انہوں نے جواب دیا الفاضل للفاضل والقاسم محروم۔ (ارواح ثلٰثہ ص267)
یہ ہے بانئ دیوبند کی مٹھائی کھلانے کی لت اور یہ ہے دیوبند جاکر پڑھنے والے طلبہ کے جال میں پھنسانے کا چارہ۔
دیوبندی اکابر کا مٹھائی کھانے اور کھلانے کا شغف اتنا بڑھا ہوا تھا کہ مرنے کے بعد بھی ان لوگوں کو مٹھائیاں کھلایا کرتے تھے جنھیں زندگی میں کھلانے کی عادت تھی۔
’’مولوی اشرف علی تھانوی اپنے پردادا کے بارے میں لکھتے ہیں:
شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ شب کے وقت اپنے گھر مثل زندوں کے تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لاکر دی اور فرمایا کہ تم کسی سے ظاہر نہ کرو گی تو اسی طرح روزانہ آیا کریں گے لیکن ان کے گھر والوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتے دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہہ کریں، اس لیے ظاہر کردیا اور آپ تشریف نہیں لائے۔یہ واقعہ خاندان میں مشہور ہے۔‘‘ (اشرف السوانح حصہ اول ص12)
جب دیوبندیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مرکر مٹی میں مل گئے تو تھانوی جی کے پردادا کیسے زندہ رہے؟
اس لیے یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ مٹھائی تھانوی کے پردادا ہی لائے تھے یا کوئی اور؟ اس کا فیصلہ ناظرین پر چھوڑ دیتا ہوں
محتسب خُم شکست من سرِ او
اَلسِنُّ بالسن والجروح قصاص

0 comments:

Post a Comment | Feed

Post a Comment



SHARE..!

Bookmark and Share
 

Flag Counter

free counters

Islam The GrEat Copyright © 2009 Premium Blogger Dashboard Designed by SAER